پاکستان کیلئے بڑی خوشخبری، سمندری تیل و گیس کے منصوبے دو دہائیوں بعد دوبارہ شروع

پاکستان میں تقریباً دو دہائیوں کے وقفے کے بعد سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں آف شور بڈ راؤنڈ کے تحت معاہدوں اور لائسنسز پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی، جس کے بعد توانائی کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق ابتدائی تین سالہ فیز ون میں 82 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے، جبکہ ڈرلنگ کے مرحلے تک پیش رفت ہونے کی صورت میں مجموعی سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
منصوبے کے تحت سندھ اور بلوچستان کی ساحلی حدود سے متصل انڈس اور مکران آف شور بیسنز میں بلاکس الاٹ کیے گئے ہیں، جن کا مجموعی رقبہ 54 ہزار 600 مربع کلومیٹر ہے اور اس میں 23 بلاکس شامل ہیں۔
اعلامیے کے مطابق دو بلاکس کے معاہدے پہلے ہی وزیراعظم ہاؤس میں طے پا چکے تھے، جبکہ اب 21 پروڈکشن شیئرنگ معاہدوں پر دستخط کے بعد آف شور بڈ راؤنڈ کا فریم ورک مکمل ہو گیا ہے۔
مختلف کمپنیوں کو بھی منصوبے میں شامل کیا گیا ہے، جن میں ماڑی انرجیز کو سب سے زیادہ بلاکس بطور آپریٹر اور جوائنٹ وینچر پارٹنر دیے گئے ہیں، جبکہ او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کو بھی ایکسپلوریشن بلاکس الاٹ کیے گئے ہیں۔ دیگر غیر ملکی اور مقامی توانائی کمپنیوں نے بھی اس عمل میں شراکت اختیار کی ہے۔
پہلے مرحلے میں سیسمک ڈیٹا اکٹھا کرنے سمیت جیولوجیکل اور جیو فزیکل اسٹڈیز کی جائیں گی، جبکہ مثبت نتائج کی صورت میں دوسرے مرحلے میں آف شور کنوؤں کی کھدائی شروع ہوگی۔
وفاقی وزیر توانائی کے مطابق یہ معاہدے ملک کی توانائی پالیسی میں ایک اہم سنگ میل ہیں، اور نئے پٹرولیم رولز کے تحت شفافیت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
Leave a reply جواب منسوخ کریں
اہم خبریں
سائنس/فیچر

پاکستان ٹوڈے ڈیجیٹل نیوز پر شائع ہونے والی تمام خبریں، رپورٹس، تصاویر اور وڈیوز ہماری رپورٹنگ ٹیم اور مانیٹرنگ ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔ ان کو پبلش کرنے سے پہلے اسکے مصدقہ ذرائع کا ہرممکن خیال رکھا گیا ہے، تاہم کسی بھی خبر یا رپورٹ میں ٹائپنگ کی غلطی یا غیرارادی طور پر شائع ہونے والی غلطی کی فوری اصلاح کرکے اسکی تردید یا درستگی فوری طور پر ویب سائٹ پر شائع کردی جاتی ہے۔














