وفاقی آئینی عدالت نے نگران دور حکومت میں کی گئی بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دیدیا

0
10

وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں نگران دور حکومت کے دوران کی گئی بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تحریری فیصلے میں کہا کہ نگران حکومتوں کا بنیادی کام صرف روزمرہ کے امور چلانا ہوتا ہے اور وہ مستقل نوعیت کے فیصلے کرنے کی مجاز نہیں ہوتیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ نگران حکومت کبھی بھی منتخب حکومت کے برابر اختیارات نہیں رکھتی، اور اس کے اہم فیصلوں کے لیے الیکشن کمیشن کی پیشگی منظوری لازمی ہوتی ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مستقل بھرتیاں روزمرہ امور کے زمرے میں نہیں آتیں، اس لیے نگران حکومت انہیں انجام نہیں دے سکتی۔

فیصلے میں خیبرپختونخوا ملازمین برطرفی ایکٹ 2025 کو آئین اور بنیادی حقوق کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ کسی قانون سے چند افراد کا متاثر ہونا اسے غیر آئینی ثابت نہیں کرتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ منتخب اسمبلی کو قانون سازی کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے، جس کے بعد برطرف کیے گئے ملازمین کی اپیلیں مسترد کر دی گئیں۔

واضح رہے کہ نگران حکومت کے دور میں درجہ چہارم کے متعدد ملازمین کو مستقل بنیادوں پر بھرتی کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں موجودہ حکومت نے منسوخ کر دیا تھا۔

Leave a reply