منٹو پارک سے گریٹر اقبال پارک تک:

0
16

رپورٹ: ماریہ شبیر 

لاہور— وہ شہر جو صرف اینٹ اور گارے کا مجموعہ نہیں، بلکہ صدیوں پر محیط تاریخ، ثقافت اور تہذیب کا ایک زندہ شاہکار ہے۔ اسی لاہور کے قلب میں واقع زمین کا ایک ایسا ٹکڑا بھی ہے، جس نے برصغیر کی تقدیر کو بدلتے دیکھا۔ اور جس کے ناموں کی تبدیلی کے پیچھے تاریخ کے کئی سنسنی خیز ابواب پوشیدہ ہیں۔ یہ کہانی ہے “منٹو پارک” سے “گریٹر اقبال پارک” بننے تک کی، جہاں ماضی کی داستانیں اور مستقبل کے خواب ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔

اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ ایک ہی جگہ کے اتنے نام کیسے ہو سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب پانے کے لیے ہمیں تاریخ کے جھرونکوں میں جھانکنا ہوگا۔ گریٹر اقبال پارک – ایک جگہ، کئی نام

ایک ہی جگہ کے ایک سے زیادہ نام کیسے؟

گریٹر اقبال پارک، جسے پہلے اقبال پارک اور منٹو پارک کہا جاتا تھا، پاکستان کے شہر لاہور کا ایک تاریخی اور نمایاں اہمیت کا حامل پارک ہے۔

اگر ہم اس جگہ کے تاریخی پس منظر میں جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مغل دور میں اس میدان میں فوجی مشقیں ہوتی تھیں۔ بعد ازاں سکھوں کے دورِ حکومت میں اسے باقاعدہ “پریڈ گراؤنڈ” کے نام سے جانا جانے لگا۔

انگریزوں نے 1849 میں لاہور پر قبضے کے بعد اس میدان کا نام “منٹو پارک” رکھا۔ یہ نام ہندوستان کے گورنر جنرل “لارڈ منٹو” کے نام پر رکھا گیا۔

پھر تاریخ میں وہ عظیم دن آیا جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا۔ 23 مارچ 1940 کو اسی منٹو پارک کے وسیع میدان میں آل انڈیا مسلم لیگ کا ایک تاریخی اجلاس منعقد ہوا۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ہزاروں مسلمانوں نے یہاں “قراردادِ لاہور” جسے ہم “قراردادِ پاکستان” کہتے ہیں، منظور کی۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں سے ایک آزاد مسلم ریاست کے قیام کی بنیاد رکھی گئی۔

چونکہ پاکستان کے اس خواب اور تصور کے خالق شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال تھے، اس لیے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد، 1947 میں، اس جگہ کی تاریخی اہمیت اور علامہ اقبال کی عظیم فکر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اس کا نام ہمیشہ کے لیے “اقبال پارک” رکھ دیا گیا۔

وقت گزرتا گیا اور یہ پارک قومی عظمت کی علامت بن گیا۔ اکتوبر 2015 میں پنجاب حکومت نے اس تاریخی ورثے کو جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے ایک عظیم الشان منصوبے کا آغاز کیا۔ نومبر 2016 میں یہ منصوبہ مکمل ہوا، جس پر 981 ملین روپے کی لاگت آئی۔ اس تزئین و آرائش کے نتیجے میں پارک کا رقبہ بڑھا کر 125 ایکڑ تک پھیلا دیا گیا۔

دسمبر 2016 میں اس  کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا اور یوں یہ پارک اپنے وسیع رقبے، جدید سہولیات اور بے پناہ خوبصورتی کے باعث “گریٹر اقبال پارک” کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ہو گیا۔

آج کا گریٹر اقبال پارک صرف درختوں اور سبزے کا نام نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی تاریخ اور جدیدیت کا ایک حسین سنگم ہے۔ سال 2018 میں یہاں پاکستان کے پہلے “نیشنل ہسٹری میوزیم” کا افتتاح کیا گیا، جو جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے یہاں آنے والوں کو تحریکِ پاکستان کے سحر انگیز سفر پر لے جاتا ہے۔

حال ہی میں گریٹر اقبال پارک میں “نیشنل ہسٹری میوزیم” کا افتتاح کیا گیا۔ یہ 2018 میں قائم ہوا اور پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل میوزیم ہے، جو جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے یہاں آنے والوں کو ایک منفرد اور یادگار تجربہ فراہم کرتا ہے۔

آج گریٹر اقبال پارک اپنے اندر جن اہم مقامات کو سمیٹے ہوئے ہے ان میں شامل ہیں:

  1. مینارِ پاکستان – قراردادِ پاکستان کی یادگار
  2. مزارِ حفیظ جالندھری – قومی ترانے کے خالق کا مزار
  3. مزارِ اقبال – شاعرِ مشرق کا مزار، پارک سے متصل
  4. نیشنل ہسٹری میوزیم – پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل میوزیم۔
  5. لائبریری
  6. مصنوعی جھیل اور 800 فٹ طویل میوزیکل فاؤنٹین
  7. مغل اسٹائل بارہ دری
  8. پلے ایریا – بچوں کے لیےتفریح گاہ
  9. فوڈ کورٹ اور فوڈ اسٹریٹ
  10. اوپن ایئر جم
  11. واکنگ ٹریلز
  12. بگی ٹریک اور سافٹ ریل
  13. آج گریٹر اقبال پارک کی صورت میں یہ جگہ محض ایک تفریحی مقام یا باغ نہیں، یہ پاکستان کی تاریخ کا وہ دھڑکتا ہوا دل ہے جو ہر آنے والے کو بتاتا ہے کہ یہ ملک کتنی قربانیوں، کتنے عظیم خوابوں اور کس قدر محنت کے بعد حاصل کیا گیا تھا۔

Leave a reply