ہر صوبے کو انتظامی بنیادوں پر 3 حصوں میں تقسیم کرنا وقت کی ضرورت ہے، عبدالعلیم خان

0
7

وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ محسن نقوی کے بیانات انتظامی اصلاحات سے متعلق اہم پیشرفت ثابت ہو سکتے ہیں، اور آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر ملک کے چاروں صوبوں کی انتظامی بنیادوں پر تقسیم اب ناگزیر ہو چکی ہے۔
اپنے ایک بیان میں عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ چاروں صوبوں کو نارتھ، سینٹرل اور ساؤتھ کے انتظامی یونٹس میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جس سے ان علاقوں کی تاریخی اور ثقافتی شناخت بھی مکمل طور پر برقرار رہے گی۔
انہوں نے تجویز دی کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے اور لوگوں کو صوبائی دارالحکومتوں تک کے سیکڑوں کلومیٹر طویل اور تھکا دینے والے سفر سے نجات ملے گی۔
عبدالعلیم خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں بادشاہت کے بجائے عوامی مفاد کو ہمیشہ مقدم ہونا چاہیے۔ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے چیف سیکرٹری، آئی جی اور ہائیکورٹس کی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی، اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے عوام کو فوری انصاف اور بہترین خدمات کی فراہمی ممکن بنے گی۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے کو صرف سیاسی نعروں تک محدود رکھا گیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام سیاسی قیادت کا ایک پیج پر آ کر اس انتظامی وژن کو حقیقت کا روپ دینا وقت کا اہم تقاضا ہے، کیونکہ یہ نئے انتظامی یونٹس ملک کو تقسیم کرنے کے بجائے قومی یکجہتی اور معیشت کو مزید مضبوط کریں گے۔

Leave a reply