’’ای پنشن پورٹل‘‘ ریٹائرڈ ملازمین کو بڑی سہولت فراہم کر دی گئی

0
11

ریٹائرڈ بزرگ سرکاری ملازمین کی سہولت کے لیے نیا ڈیجیٹل سسٹم ای پنشن پورٹل متعارف کرا دیا گیا ہے۔
پاکستان میں سرکاری ملازمین کے لیے ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کا حصول ہمیشہ سے ایک مشکل اور تھکا دینے والا عمل رہا ہے، بزرگ پنشنرز کو مہینوں تک دفاتر کے چکر لگانے پڑتے تھے۔تاہم اب حکومت اور اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (AGPR) نے پورے پنشن سسٹم کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کر کے ای پنشن پورٹل متعارف کرایا ہے۔اس نئے ڈیجیٹل سسٹم کا مقصد پنشن کے معاملات کو مہینوں کے بجائے دنوں میں حل کرنا اور بزرگ شہریوں کو لائنوں میں کھڑے ہونے کی پریشانی سے بچانا ہے۔یہ پورٹل ریٹائرڈ ملازمین کو درج ذیل جدید سہولتیں فراہم کرے گا۔
آن لائن پنشن ٹریکنگ:اب ملازمین گھر بیٹھے اپنے پنشن کیس کی موجودہ صورتحال کو آن لائن دیکھ سکتے ہیں، کہ ان کی فائل کس ڈیسک پر ہے۔
بینک اکاؤنٹ میں براہ راست منتقلی:پنشن کی رقم اب نیشنل بینک کی کسی مخصوص برانچ کے بجائے ملازم کے کسی بھی کمرشل بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔
پنشنرز کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کا نیا طریقہ:ماضی میں پنشنرز کو زندہ ہونے کا ثبوت (لائف سرٹیفکیٹ) جمع کرانے کے لیے سال میں دو بار بینک جانا پڑتا تھا۔ تاہم اب اس سسٹم کو بائیو میٹرکس سے بدل دیا گیا ہے۔
بینک برانچ یا اے ٹی ایم:پنشنرز اپنے انگوٹھے کے نشان کی تصدیق کے لیے ہر چھ ماہ بعد اپنی قریبی بینک برانچ یا بائیو میٹرک سے چلنے والے (اے ٹی ایم) پر جا سکتے ہیں۔
موبائل ایپ کے ذریعے تصدیق:حکومت اب ایسی موبائل ایپس پر بھی کام کر رہی ہے جس کے ذریعے پنشنرز موبائل کیمرے کا استعمال کرتے ہوئے اپنے چہرے یا انگلیوں کو سکین کر کے گھر بیٹھے تصدیق کر سکیں گے۔
وقت پر تصدیق نہ کرنے کے نتائج:اگر کوئی پنشنر مقررہ وقت کے اندر بائیو میٹرک تصدیق مکمل نہیں کرتا ہے، تو اس کا پنشن اکاؤنٹ عارضی طور پر بلاک کر دیا جاتا ہے۔
ای پنشن پورٹل پر کیسے رجسٹر ہوں؟آن لائن سسٹم کا حصہ بننے کے لیے، ملازم کو ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنے محکمہ کے ذریعے ڈیجیٹل پورٹل پر اپنا ڈیٹا اپ لوڈ کرنا ہوگا۔اس کے لیے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC)، ذاتی فون نمبر، اور ایک فعال موبائل نمبر کا ہونا لازمی ہے۔ ڈیٹا انٹری مکمل ہونے کے بعد، ملازم کو ایک منفرد پنشن ID جاری کی جاتی ہے۔

Leave a reply