
سینیٹ نے پاسپورٹس (ترمیمی) بل 2026 متفقہ طور پر منظور کرلیا، جبکہ حکومت نے ریٹائرڈ بیوروکریٹس کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کی سہولت ختم کرنے کے لیے نئی قانون سازی لانے کا اعلان کیا ہے۔
سینیٹ کے اجلاس کی صدارت چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے کی، جس میں سرکاری بلیو پاسپورٹس کے اجرا، خیبرپختونخوا کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور مختلف قانونی ترامیم سمیت متعدد امور پر بحث کی گئی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ حکومت ریٹائرڈ بیوروکریٹس کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کی سہولت ختم کرنے کے لیے نیا بل پیش کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عالمی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے سرکاری پاسپورٹس کے اجرا اور استعمال کو ضابطے میں لانا ضروری ہے۔
طلال چوہدری کے مطابق حکومت بلیو پاسپورٹس کی تعداد 75 ہزار سے کم کرکے 45 ہزار تک لے آئی ہے، جبکہ تقریباً 30 ہزار غیر ضروری یا غیر فعال پاسپورٹس منسوخ کیے گئے ہیں۔ یورپی ممالک اور کینیڈا نے سرکاری پاسپورٹس کے استعمال پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ پاسپورٹ کی سکیورٹی اور اس کا وقار پاکستانی عوام کے وقار سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق سرکاری پاسپورٹس کی تعداد ملک کی بین الاقوامی پاسپورٹ درجہ بندی اور ویزا فری سفر کی سہولتوں کے امکانات پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ارکان پارلیمنٹ کو سہولتیں دینے کے خلاف نہیں، تاہم ان کے اہل خانہ تک بلیو پاسپورٹ کی سہولت بڑھانے پر تحفظات ہیں۔ طلال چوہدری نے گریڈ 22 کے ریٹائرڈ سرکاری افسران کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ سے بھی خاندانوں کے لیے اس سہولت سے متعلق مجوزہ قانون سازی واپس لینے کی درخواست کی۔
واضح رہے کہ سینیٹ سے منظور ہونے والا پاسپورٹس (ترمیمی) بل 2026 اور ریٹائرڈ بیوروکریٹس کے اہل خانہ کے لیے بلیو پاسپورٹ کی سہولت ختم کرنے کے لیے مجوزہ قانون سازی دو الگ معاملات ہیں۔















