امریکا کے سامنے دو راستے ہیں، مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل یا پھر دوبارہ فوجی جارحیت،عباس عراقچی

0
6

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران سفارتکاری اور ممکنہ جنگ، دونوں صورتوں کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہے، اب فیصلہ واشنگٹن کو کرنا ہے کہ وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرتا ہے یا دوبارہ فوجی کارروائی کی غلطی دہراتا ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکا کے سامنے دو راستے ہیں، ایک مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا اور دوسرا دوبارہ فوجی جارحیت کا راستہ اپنانا۔ ایران نے سفارتی حل کے لیے واضح منصوبہ اور منصفانہ شرائط پیش کر دی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ دشمن کی جانب سے کسی بھی نئے فوجی حملے یا دھوکے کا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔ ایران کسی قسم کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کا انحصار ایرانی شرائط تسلیم کیے جانے پر ہے۔ علی باقری کا دورہ بیجنگ بھی خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے اسٹریٹجک مشاورت کا حصہ ہے۔ ایران اپنے اہم شراکت داروں کے ساتھ علاقائی امن اور سلامتی کے معاملات پر مسلسل رابطے میں ہے۔

Leave a reply