ایران سے متعلق متنازع بیان، امریکی سیاستدانوں نےٹرمپ کو پاگل قرار دے دیا

امریکا میں ایران کے خلاف متنازع اور غیر اخلاقی بیان پر سینئر سیاستدانوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتےہوئےپاگل قراردےدیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد امریکی رہنماؤں نے ٹرمپ کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے آئینی اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا کہ ٹرمپ ذہنی طور پر غیر متوازن اور خطرناک ہو چکے ہیں، کانگریس کو فوری طور پر کارروائی کرنا ہوگی۔
سینیٹ میں اقلیتی قائد چک شومر کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب لوگ ایسٹر کی تیاریوں میں مصروف ہیں، ٹرمپ سوشل میڈیا پر غیر سنجیدہ بیانات دے رہے ہیں۔
ٹرمپ کی سابق حامی مارجوری ٹیلر گرین نے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر کے طرزِ عمل پر ان کی ٹیم کو مداخلت کرنی چاہیے۔
امریکی سینیٹر کرس مرفی نے کہا کہ اگر وہ کابینہ میں ہوتے تو آئین کی پچیسویں ترمیم کے تحت صدر کو ہٹانے کے لیے مشاورت شروع کر دیتے، جس کے مطابق صدر کی معذوری کی صورت میں اختیارات نائب صدر کو منتقل کیے جا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق سخت دھمکیاں دیتے ہوئے کہا تھا کہ بصورت دیگر سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے ایران کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور ایران کے لیے حالات انتہائی سنگین ہو جائیں گے۔















