وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کا اجلاس

0
16

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ بھر میں زیر تکمیل پراجیکٹس کو بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت صوبائی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام 25-2024 کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ہر پراجیکٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا، وزیراعلیٰ پنجاب نے ہر ڈیپارٹمنٹ کی خصوصی سکیموں پر تفصیلی بریفنگ لی اورہدایات جاری کیں۔

مریم نواز نے زیر تکمیل پراجیکٹس کو ہر صورت بروقت مکمل کرنے اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ کیلئے پی آئی ٹی بی کو ڈیش بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کر دی۔

دوران اجلاس وزیراعلیٰ پنجاب کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں موٹرویز کے ہر انٹرچینج پر ایمبولینس شروع کی جا رہی ہے، 106 ترقیاتی منصوبے غیر ملکی اداروں کی معاونت اور اشتراک کے ساتھ مکمل کئے جائیں گے۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ چیچہ وطنی تا لیہ 189کلو میٹر سڑک، ملتان تا وہاڑی 93 کلو میٹر روڈ کی تعمیر شروع کرنے کیلئے 13 اگست کی ڈیڈ لائن ہے، ساہیوال تا سمندری اور بہاولنگر تا جھانگرا شرقی انٹرچینج روڈ کی تعمیر کا آغاز بھی 13 اگست تک کر دیا جائے گا، فیصل آباد، چنیوٹ سرگودھا روڈ کی تعمیراتی سرگرمیوں کا آغاز 31 جولائی کو ہوگا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے 400 ملین روپے فوری طور پر ریلیز کرنے کا حکم دیتے ہوئے فنڈز کے استعمال کی بنیاد پر باقی مختص فنڈز بھی جاری کرنے کی ہدایت کر دی۔

مریم نواز نے یونیورسل ہیلتھ انشورنس کے 25 فیصد فنڈ سہ ماہی بنیاد پر جاری کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کے 83 اور ڈویژنل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے 431 پراجیکٹس کی تفصیل پیش کی گئی، ڈیپارٹمنٹل ڈویلپمنٹ سب کمیٹی کے 282 اور صوبائی ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے 378 پراجیکٹس پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے مراکز صحت کی ری ویمپنگ اور تعمیر و بحالی کے پراجیکٹس کی جلد تکمیل، گوشت، جھینگوں، جانوروں اور گارمنٹس کی برآمدات کیلئے کمپنی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ بہت کام کرنا ہے، تمام سکیموں کے پی سی ون 15 جولائی تک جمع کرائے جائیں، تمام سکیموں کو وقت پر مکمل کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، پراجیکٹس میں شفافیت، معیار اور میعاد کی مانیٹرنگ پر خصوصی توجہ دی جائے۔

Leave a reply