2026 فلکیاتی نظاروں کے حوالے سے بھرپور اور یادگار سال ثابت ہوگا

0
46

رواں سال فلکیات کے شوقین افراد کیلئے غیرمعمولی طور پر اہم قرار،2026 فلکیاتی نظاروں کے حوالے سے بھرپور اور یادگار سال ثابت ہوگا۔اس سال کے دوران چاند اور سورج نمایاں کائناتی مظاہر کے ساتھ مرکزی حیثیت اختیار کریں گے۔
چاند پر دوبارہ انسانوں کی واپسی، سورج گرہن، سُپرمون، سیاروں کی قطار اور غیرمعمولی روشنیوں کے نظارے امسال آسمان کو مسلسل خبروں میں رکھیں گے۔
رواں سال کے ابتدائی حصے میں تین امریکی اور ایک کینیڈین خلا باز چاند کے گرد پرواز کریں گے، اس دوران وہ چاند کے پچھلے حصے کا مشاہدہ کریں گے اور دس روزہ مشن مکمل کرکے زمین پر واپس لوٹ آئیں گے۔ اس مشن میں چاند پر اترنے کا مرحلہ شامل نہیں ہوگا، تاہم مستقبل کے مشنز کیلئے قیمتی معلومات حاصل کی جائیں گی۔
چین اور امریکی نجی کمپنیاں بھی 2026 میں چاند پر روبوٹک لینڈرزبھیجنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ایمازون کے بانی جیف بیزوس کی کمپنی بلیو اوریجن ایک بڑے سائز کے بلو مون لینڈر کا تجرباتی ماڈل چاند پر روانہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جو ماضی کے اپولو مشنز کے لینڈرز سے کہیں زیادہ اونچا ہوگا۔رواں سال چین جنوبی قطبی علاقے میں برف کی تلاش کیلئے خصوصی رُووَر بھیجے گا۔
2026 میں سورج بھی ماہرین فلکیات کی بھرپور توجہ حاصل کرے گا، 17 فروری کو انٹارکٹیکا میں سورج گرہن ہوگا، جہاں آگ کے حلقے جیسا منظر دکھائی دے گا،اگست میں مکمل سورج گرہن آرکٹک خطے سے شروع ہو کر گرین لینڈ، آئس لینڈ اور سپین تک دیکھا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ فروری کے اختتام پر مکمل چاند گرہن اور اگست کے آخر میں جزوی چاند گرہن بھی متوقع ہے۔
فروری کے آخر میں نظامِ شمسی کے چھ سیارے ایک ساتھ آسمان پر قطار کی صورت میں نظر آئیں گے، جن میں عطارد، زہرہ، مشتری اور زحل بغیر کسی آلے کے بھی دیکھے جا سکیں گے، جبکہ یورینس اور نیپچون کیلئے دوربین درکار ہوگی، مریخ اس منظر میں شامل نہیں ہوگا، تاہم اگست میں سیاروں کی ایک اور قطار میں مریخ بھی دکھائی دے گا۔
2026 میں تین سپرمون کا نظارہ بھی متوقع ہے، جن میں پہلا جنوری میں، دوسرا نومبر میں اور تیسرا اور سب سے قریب سُپرمون دسمبر میں نظر آئے گا۔یوں 2026 فلکیاتی مظاہر کے حوالے سے ایک بھرپور اور یادگار سال ثابت ہونے جا رہا ہے۔

Leave a reply