کیا واقعی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ ’’بلڈ مون‘‘ ہے؟

کیا واقعی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ ’’بلڈ مون‘‘ ہے؟دلچسپ اور حیرت انگیزقیاس آرائیاں سامنے آ گئیں۔
کئی سوشل میڈیا صارفین مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو آسمان میں رونما ہونیوالے نایاب’’بلڈ مون‘‘ سے جوڑ رہے ہیں۔بلڈ مون کو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی سے جوڑنے والوں کا ماننا ہے کہ 2026 کا پہلا چاند گرہن یہودیوں کے پوریم اور روش ہشاناہ جیسے اہم تہواروں کے قریب ہو گا۔ایسے خیالات رکھنے والے افراد کا کہناہے کہ ایران و اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اوربلڈ مون کے اوقات کا ملنا علاقائی تنازعات سے متعلق قدیم پیشگوئیوں کو پورا کر سکتا ہے۔
بلڈ مون کو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی سے جوڑنے والے اسے سرخ بچھیا (Red Heifer) کی تلاش سے بھی جوڑ رہے ہیں۔
دراصل بلڈ مون کے بارے میں کئی قدیم ثقافتوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ صدیوں سے یہی خیال رکھتے آئے ہیں کہ یہ پراسرار انداز میں منفی طاقتوں کو اکساتا ہے اور یروشلم میں تو اسے مخصوص مذہبی خواہشات کیلئے شرط سمجھا جاتا ہے، اس لیے وہاں کے لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ ایک ایسا عمل ہے، جس کے اہم علاقائی مضمرات ہوں گے، تاہم آج تک اس طرح کے خیالات میں سے کسی کا بھی کوئی مستند ثبوت نہیں ملا۔
یہی وجہ ہے کہ حقیقت پسند افراد اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ جغرافیائی سیاسی عدم استحکام اور سائنس کو الگ الگ ہی رکھا جانا چاہیے اور اس طرح کی قیاس آرائیاں غلط ہیں۔
اس حوالے سےماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ ان دونوں واقعات کا ایک ساتھ رونما ہونا محض ایک قدرتی اتفاق ہے، بلڈ مون صرف ایک مکمل چاند گرہن ہے اور یہ اتنا بھی نایاب نہیں، جتنا اسے سمجھا جاتا ہے۔















