پاکستان میں آم کا موسم: پھلوں کے بادشاہ کی شاندار آمد اور اس کی لذت

0
20

حافظ عاصم شیروانی:
پاکستان میں گرمیوں کا موسم جہاں اپنے ساتھ شدید تپش اور لو لے کر آتا ہے، وہیں یہ ایک ایسی بے مثال نعمت کا پیغام بھی لاتا ہے جس کا انتظار ہر پاکستانی کو سارا سال بے صبری سے رہتا ہے۔ جی ہاں! ہم بات کر رہے ہیں ’پھلوں کے بادشاہ‘ یعنی آم کی۔ آم محض ایک پھل نہیں بلکہ پاکستان کی ثقافت، مہمان نوازی اور گرمیوں کی سوغات کا ایک اہم اور میٹھا حصہ ہے۔ گرمی کی شدت میں جیسے جیسے اضافہ ہوتا ہے، بازاروں میں پیلے، سبز اور سنہری رنگ کے آموں کی بہار آ جاتی ہے۔
پاکستان میں آم کی آمد کسی تہوار سے کم نہیں ہوتی۔ جونہی بازاروں میں آموں کی پیٹیاں نظر آنا شروع ہوتی ہیں، لوگوں کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ دوستوں اور رشتہ داروں کو آموں کا تحفہ بھیجنا ہماری ایک ایسی خوبصورت روایت ہے جو دلوں میں محبت بڑھاتی ہے۔ گرمیوں کی دوپہروں اور شاموں میں خاندان بھر کا ایک جگہ جمع ہو کر برف کے ٹھنڈے پانی سے بھرے ٹب میں آموں کو ٹھنڈا کرنا اور پھر مل بیٹھ کر کھانا ایک ایسا تجربہ ہے جو ہر پاکستانی کی بچپن کی یادوں میں بسا ہے۔ ’آم کی پارٹیاں‘ دوستوں کے درمیان محفلیں جمانے کا ایک بہترین بہانہ ہوتی ہیں۔
پاکستان کو دنیا بھر میں آموں کی بہترین اقسام پیدا کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہاں پیدا ہونے والے آم اپنے ذائقے، خوشبو اور مٹھاس میں ثانی نہیں رکھتے۔ سندھڑی کو آموں کا سردار بھی کہا جاتا ہے، جو سائز میں بڑا، رنگت میں دلکش پیلا اور ذائقے میں شہد کی طرح میٹھا ہوتا ہے۔ چونسا پاکستان کا مقبول ترین آم ہے جس کی خوشبو اور مٹھاس اتنی لاجواب ہوتی ہے کہ اسے کھائے بغیر گرمیوں کا موسم ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ انور رٹول سائز میں چھوٹا لیکن ذائقے میں بے مثال ہوتا ہے اور اپنی مخصوص تیز خوشبو کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ لنگڑا پکنے کے بعد بھی سبز رہتا ہے لیکن اندر سے انتہائی میٹھا اور ذائقے دار ہوتا ہے، جبکہ دسہری اپنی لمبی اور پتلی شکل اور رس بھرے ذائقے کے لیے جانا جاتا ہے۔
پاکستان میں آم کا موسم مئی کے وسط سے شروع ہو کر ستمبر کے آخر تک جاری رہتا ہے۔ آم کی پیداوار کا آغاز صوبہ سندھ بالخصوص میرپور خاص، ٹنڈو الہ یار اور حیدرآباد سے ہوتا ہے، جہاں کی گرم آب و ہوا سندھڑی کی جلد پختگی میں مدد دیتی ہے۔ جونہی سندھ کے آموں کا زور ٹوٹتا ہے، پنجاب کے علاقوں جیسے ملتان، رحیم یار خان، بہاولپور اور مظفر گڑھ سے آم آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ علاقے اپنی زرخیز مٹی کی بدولت ایسی پیداوار دیتے ہیں جو مٹھاس میں پوری دنیا میں مشہور ہے۔ ملتان کا چونسا اور انور رٹول تو عالمی سطح پر ایک خاص اور منفرد پہچان رکھتے ہیں۔
آم کا استعمال صرف اسے کاٹ کر یا چوس کر کھانے تک محدود نہیں ہے۔ پاکستانی گھرانوں میں اس پھل سے کئی مزیدار اور ٹھنڈی چیزیں تیار کی جاتی ہیں۔ گرمی کی دوپہر میں ایک گلاس ٹھنڈا مینگو شیک یا روایتی مینگو لسی دن بھر کی تھکاوٹ اور گرمی کی شدت کو دور کر دیتی ہے۔ اس کے علاوہ آم کی آئس کریم، مینگو ٹرائفل، کھیر اور کسٹڈ جیسی میٹھی ڈشز دعوتوں کی جان سمجھی جاتی ہیں۔ کچے آم کا استعمال بھی بہت عام ہے؛ کیری کا شربت گرمی کی شدت کم کرنے اور لو سے بچنے کا بہترین گھریلو نسخہ ہے، جبکہ کیری کا اچار اور کھٹی میٹھی چٹنی ہر پاکستانی دسترخوان کا لازمی حصہ ہوتی ہے۔
لذت اور ذائقے کے ساتھ ساتھ، آم بے شمار طبی فوائد کا حامل بھی ہے۔ یہ وٹامن اے اور وٹامن سی کا بہترین ذریعہ ہے، جو آنکھوں کی بینائی اور جلد کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس انسانی جسم کی قوت مدافعت کو مضبوط بناتے ہیں اور ڈائٹری فائبر کی وافر مقدار نظامِ ہاضمہ کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ تاہم، چونکہ آم میں قدرتی مٹھاس اور کیلوریز کافی مقدار میں ہوتی ہیں، اس لیے وزن کم کرنے والے افراد اور ذیابیطس کے مریضوں کو اسے اعتدال میں استعمال کرنا چاہیے۔
آم نہ صرف ہماری مقامی غذائی ضرورت پوری کرتا ہے بلکہ یہ پاکستان کی معیشت میں بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستانی آم مشرق وسطیٰ، یورپ، امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں برآمد کیا جاتا ہے، جس سے ملک کو کروڑوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ’مینگو ڈپلومیسی‘ کے تحت پاکستانی آموں کو غیر ملکی سربراہانِ مملکت کو بطور تحفہ بھی پیش کیا جاتا ہے، جو ہمارے ملک کے لیے باعثِ فخر ہے۔
غرض یہ کہ آم پاکستان کے لیے صرف ایک پھل نہیں بلکہ قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے۔ یہ گرمیوں کی تلخیوں کو اپنی مٹھاس سے کم کرتا ہے، خاندانوں کو جوڑتا ہے، اور رشتوں میں محبت کی چاشنی گھولتا ہے۔ جب تک آم کا موسم رہتا ہے، ہر گھر میں اس کی خوشبو مہکتی رہتی ہے۔ تو اس موسمِ گرما، گرمی کی شدت سے گھبرانے کے بجائے، اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ مل کر آموں کی شاندار دعوتوں کا اہتمام کریں اور قدرت کی اس عظیم اور لذیذ نعمت کا بھرپور لطف اٹھائیں۔

Leave a reply