ٹیکنالوجی کی دنیامیں انقلاب برپا،نئی متعارف کرائی گئی گرافین بیٹری نے لیتھیم ٹیکنالوجی کو پیچھے چھوڑ دیا

0
7

 توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی کے میدان میں چین نے ایک بڑی پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے جس کے مطابق گرافین پر مبنی نئی بیٹری ٹیکنالوجی لیتھیم بیٹریوں کے کئی بنیادی مسائل کا حل پیش کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں سے لیتھیم بیٹری ٹیکنالوجی توانائی ذخیرہ کرنے میں سب سے زیادہ استعمال ہو رہی ہے، تاہم اس میں چارجنگ کے طویل وقت، وقت کے ساتھ صلاحیت میں کمی اور بعض صورتوں میں خطرناک تھرمل رن وے جیسے مسائل موجود رہے ہیں۔

چینی محققین کا کہنا ہے کہ نئی گرافین بیٹری ٹیکنالوجی ان مسائل میں نمایاں بہتری لاتی ہے، جس کے مطابق یہ بیٹریاں صرف چند منٹوں میں مکمل چارج ہو سکتی ہیں اور روایتی بیٹریوں کے مقابلے میں زیادہ چارج سائیکل برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس نئی ٹیکنالوجی میں حرارتی عدم استحکام کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے، جس سے آگ لگنے یا شدید نقصان کے امکانات میں کمی آتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر کامیاب ہوتی ہے تو یہ الیکٹرک گاڑیوں، موبائل ڈیوائسز اور توانائی کے ذخیرہ کرنے کے نظام میں ایک اہم تبدیلی لا سکتی ہے۔

تاہم ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کی مکمل تجارتی سطح پر دستیابی اور کارکردگی کے حوالے سے مزید تحقیق اور تجربات کی ضرورت ہے۔

Leave a reply