امریکا میں لبلبے کے کینسر کی انقلابی دوا منظور، قیمت کتنی ہے؟

0
8

امریکی ایف ڈی اے نے لبلبے کے کینسر کی انقلابی دوا ’ریسونک‘ کی منظوری دے دی۔
روئٹرز کے مطابق ریوولوشن میڈیسنز کی تیار کردہ گولی ریسونک (Rasonque) کی ایک بڑے پیمانے کی آزمائش میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اس دوا سے کینسر کے آخری اسٹیج میں مبتلا مریضوں کے بچنے کی شرح دگنی ہو جاتی ہے۔یہ گولی روزانہ ایک کھائی جاتی ہے، ریسونک کا فارمولا Daraxonrasib ہے، اور اب اس گولی نے لبلبے کے مہلک سرطان کا سامنا کرنے والے مریضوں کے لیے نئی امید پیدا کر دی ہے۔اس دوا کو اُن مریضوں میں پینکریاٹک کینسر کے علاج کے لیے منظور کیا گیا ہے جو پہلے علاج حاصل کر چکے ہیں یا جنھیں مرکب کیموتھراپی نہیں دی جا سکتی۔ یہ دوا RAS نامی پروٹین کی متعدد اقسام کو روکنے کے لیے تیار کی گئی ہے، جو لبلبے کے بہت سے سرطانوں میں رسولی کی افزائش میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
دوا تیار کرنے والی کمپنی ریوولوشن نے کہا کہ یہ دوا اب امریکا میں دستیاب ہے اور 30 دن کی خوراک کی قیمت 39,800 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ تاہم کمرشل انشورنس رکھنے والے اہل مریضوں کو یہ ممکنہ طور پر مفت ملے گی۔امریکی بائیوٹیک کمپنی ریوولوشن نے جب اپریل میں اس دوا کی آزمائش کے نتائج کا اعلان کیا تو اچانک اس کی طلب میں بے پناہ اضافہ ہو گیا تھا، جس پر ایف ڈی اے نے اپنے ’ہمدردانہ استعمال کے پروگرام‘ کے تحت اس دوا تک ابتدائی رسائی کی اجازت دے دی۔ اس پروگرام کے ذریعے سنگین یا جان لیوا بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو ریگولیٹری ادارے کی منظوری سے پہلے، کلینیکل آزمائشوں سے باہر، تجرباتی علاج حاصل کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
اس دوا تک ابتدائی رسائی حاصل کرنے والے بعض مریضوں کو کیموتھراپی سے ہونے والے مضر اثرات سے نجات مل گئی تھی، کیلیفورنیا کے شہر فلرٹن کی 88 سالہ باربرا اینڈیز نے، جو ایک سال تک کیموتھراپی لینے کے بعد جولائی میں یہ دوا استعمال کرنا شروع ہوئی تھیں، بتایا کہ اس گولی کی وجہ سے وہ اپنی معمول کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر سکیں اور انھیں متلی اور تھکن بھی بہت کم ہوئی۔
تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ یہ دوا سالانہ 11.5 ارب ڈالر کی فروخت پیدا کر سکتی ہے۔
امریکن کینسر سوسائٹی کے اندازے کے مطابق اس سال تقریباً 67,350 افراد میں لبلبے کے سرطان کی تشخیص ہونے کی توقع ہے۔

Leave a reply