
سینیٹر پلوشہ خان نے پمزہسپتال میں نرسری آتشزدگی کے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پمز ایک عقوبت خانہ ہے، اس سے اچھا ہے میں گھر میں مر جاؤں۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹر پلوشہ خان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں پمز ہسپتال میں نرسری آتشزدگی کے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ہسپتال کے انتظامی نظام اور مبینہ غفلت پر سوالات اٹھا دیے۔
پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ پمز ایک عقوبت خانہ ہے، اس سے اچھا ہے میں گھر میں مر جاؤں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مؤقف درست نہیں کہ بجٹ کے پیسے موجود نہیں تھے، ہسپتال کے معاملات کا آڈٹ ہونا چاہیے اور اربوں روپے کہاں خرچ ہوئے اس کا حساب لیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بچے جب اللہ کے پاس جائیں گے،ان کے منہ سے نکلنے والی آہ سب کو جلا دے گی۔
سینیٹر پلوشہ خان نے کہاکہ نہیں پتہ سسٹم کون ٹھیک کرے گا لیکن ان 14 بچوں کو تو قربانی کا بکرا نہیں بننا چاہیے تھا، سسٹم ناکام ہونے کے قصور وار یہ معصوم بچے نہیں تھے۔
پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ سسٹم نہیں چل رہا توچھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ انتظامیہ کی غفلت سے 14 بچوں کی جان گئی ، ملک کےدیگر ہسپتالوں کوبھی دیکھنے کی ضرورت ہے ،انہوں نے کہا جاں بحق ہونے والے بچوں کے لواحقین کے دکھ کا ازالہ ممکن نہیں، تاہم واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کرکے جواب دہی ضروری ہے۔















