احتجاج نہ ہوتا تو پیٹرول کی قیمت600 روپے ہوتی، نعیم الرحمان

0
13

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نےکہاہےکہ احتجاج نہ ہوتا تو اس وقت 500 یا 600 روپے فی لیٹر پیٹرول ملتا۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج نہ ہوتا تو اس وقت پٹرول 500 سے 600 روپے فی لیٹر مل رہا ہوتا، جماعت اسلامی اپنے مطالبات اور موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹی، پٹرولیم لیوی ایک بھتہ اور جگا ٹیکس ہے جس کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی یقین دہانی پر لانگ مارچ مؤخر کیا ہے، اسے حکومت کمزوری نہ سمجھے۔ احتجاجی کیمپ اور ریلیاں ملک بھر میں جاری ہیں اور عوام کی رائے لی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اب بات چیت صرف وزیراعظم کی سطح پر ہوگی، ان کے واپس آنے پر دوٹوک بات کی جائے گی، اگر ریلیف دینا ہے تو دیں، جماعت اسلامی اب کسی قسم کی ٹال مٹول برداشت نہیں کرے گی۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے پٹرول پر لیوی لگانا لازمی قرار نہیں دیا بلکہ پٹرولیم کمپنیوں کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے اور بچت کا کہا ہے۔
حکومتی مراعات پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں، دوسری طرف مریم نواز کے لیے 11 ارب روپے کا جہاز خریدا جا رہا ہے، اربوں کی گاڑیوں کے آرڈر دیے جا رہے ہیں اور پروٹوکول میں 36، 36 گاڑیاں استعمال ہو رہی ہیں۔
ایف بی آر نے 1,300 ارب روپے کی کرپشن کی ہے اور عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈال کر خون پسینے کی کمائی لوٹی جا رہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شرح سود میں کم از کم 3 فیصد کمی کی جائے، اس سے معیشت اور عوام دونوں کو ریلیف ملے گا، سود کے نظام نے قوم کو تباہ کر دیا ہے۔
عمران خان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ان کی قیادت کی ملاقات کا مطالبہ بالکل جائز ہے، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور محمود الرشید سمیت تمام سیاسی اور خاص طور پر خواتین قیدیوں کو فوری رہا کیا جائے۔
گورنر راج سے متعلق حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کے پی کے میں گورنر راج غیر آئینی اقدام ہوگا جو حکومت کے اپنے گلے پڑ جائے گا۔ وزراء کا دھمکی آمیز لہجہ درست نہیں، حکومت آگے بڑھے اور پی ٹی آئی کے احتجاج کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرے۔

Leave a reply