حکومت کا ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور ریونیو میں اضافے کیلئے مالیاتی اصلاحات پر غور

0
3

وفاقی بجٹ میں حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ اور رعایتی سیلز ٹیکس شرحوں پر نظرثانی کیے جانے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں رعایتی جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور ریونیو میں اضافے کے لیے نئی مالیاتی اصلاحات متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں آٹھویں شیڈول کے تحت حاصل ٹیکس مراعات کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ درآمدی کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں پر موجود ٹیکس مراعات برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا فیصلہ بھی بجٹ میں کیا جا سکتا ہے۔

بجٹ میں جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں نمایاں کمی کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔

زرعی شعبے کے حوالے سے ٹریکٹرز اور ڈی اے پی کھاد پر دی گئی ٹیکس چھوٹ کو کم یا مکمل طور پر ختم کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں، جبکہ پولٹری اور لائیو اسٹاک فیڈ پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال پر ٹیکس پالیسی میں تبدیلی کا امکان ہے، جبکہ سولر فوٹو وولٹائیک سیلز پر دی جانے والی ٹیکس سہولت واپس لینے پر بھی غور جاری ہے۔

اس کے علاوہ اسٹیشنری اور بعض بنیادی اشیائے خور و نوش پر دی گئی ٹیکس رعایتیں بھی کم یا ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ترجیحی ٹیکس مراعات کے بجائے یکساں ٹیکس نظام کی جانب بڑھ رہی ہے، اور یہ اقدامات آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ٹیکس چھوٹ میں کمی کی پالیسی کا حصہ ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ مجوزہ اقدامات بجٹ کا حصہ بنے تو مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔ وفاقی بجٹ میں سیلز ٹیکس پالیسی اور مختلف شعبوں کو دی جانے والی مراعات سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔

Leave a reply