
نور مقدم قتل کیس کے مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظر ثانی کی درخواست خارج ہونے کے فیصلے میں کہا مجرم نے ایسے شواہد پیش نہیں کیے کہ عدالت فیصلے پر نظرثانی کرے۔
سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست خارج کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریر کیا، تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ظاہر جعفر نے ذہنی بیماری کی بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، تاہم وہ ایسے شواہد پیش نہیں کرسکے جن کی بنیاد پر عدالت اپنے پہلے فیصلے پر نظرثانی کرتی۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ مجرم انتہائی سنگین جرم کا مرتکب ہوا اور اس کا جرم ایسا نہیں تھا کہ سزا میں کمی کی جاسکے۔
عدالت کے مطابق نظرثانی کے مرحلے میں دائرہ اختیار انتہائی محدود ہوتا ہے اور نظرثانی کی درخواست کو اپیل کے طور پر نہیں لیا جاسکتا۔
فیصلے میں خواتین کے تحفظ اور احترام پر بھی زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ اسلام نے خواتین کو بے حد تحفظ اور احترام دیا ہے، جبکہ خواتین کو تشدد اور عدم تحفظ کا شکار کرنا شرعی اور دنیاوی قوانین کے خلاف ہے۔
واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ظاہر جعفر کو نور مقدم کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی، جسے اسلام آباد ہائیکورٹ نے برقرار رکھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے بھی قتل کے جرم میں سزائے موت برقرار رکھی تھی، جبکہ نظرثانی درخواست بھی خارج کردی گئی۔















