
وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ حقیقی دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں ساتھ کھڑا رہے۔ انہوں نے مسعود پزشکیان کو ایک عظیم ملک کا عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ بطور معالج اور سیاسی رہنما ان کی خدمات قابلِ ستائش ہیں۔
وزیراعظم نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے خاتمے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ثالثی اور امن کوششوں میں خلوصِ نیت کے ساتھ کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل اور مختلف سفارتی اقدامات نے خطے میں امن کے لیے مثبت فضا پیدا کی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایران کے عوام نے مشکل حالات میں جرات، استقامت اور اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے جنگ کے دوران جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی عوام اور قیادت سے یکجہتی کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے مذاکراتی عمل میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر محسن نقوی کی خدمات کو بھی سراہا۔
اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنی گفتگو کا آغاز علامہ محمد اقبال کے شعر سے کیا اور کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات محض ہمسائیگی تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک گہرے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور تہران کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور تعاون پر قائم ہیں۔ ایرانی صدر کے مطابق پاکستان نے امن اور مذاکراتی عمل میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا، جسے ایران قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ صدر مملکت، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سمیت پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے پرتپاک استقبال اور مثالی میزبانی پر پاکستانی حکومت اور عوام کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے رابطوں کے فروغ، تعمیری مکالمے اور مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہوگا تاکہ دونوں ممالک اور پورا خطہ ایک روشن مستقبل کی جانب بڑھ سکے۔















