پاکستان میں سولر انرجی کا بڑا اضافہ،5سالوں میں 18ارب ڈالر کے سولر پینلز درآمد کیے

0
9

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تقریباً 50 گیگاواٹ کے سولر پینلز درآمد کیے، جن کی مجموعی مالیت لگ بھگ 18 ارب ڈالر بنتی ہے۔ یہ مقدار ملک کے مجموعی قومی گرڈ کی صلاحیت کے برابر بتائی گئی ہے۔
تھنک ٹینک “رینیوایبلز فرسٹ” کی رپورٹ کے مطابق قابلِ تجدید توانائی میں اس تیزی سے تقریباً 70 لاکھ گھروں اور متعدد بڑے کاروباری اداروں کو توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی سیاسی خطرات سے تحفظ ملا ہے۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جو صارفین مالی وسائل یا جگہ کی کمی کے باعث سولر سسٹم نصب نہیں کر سکے، ان کے لیے بجلی مزید مہنگی ہوتی جا رہی ہے، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔
کراچی سکول آف بزنس اینڈ لیڈرشپ میں “پاکستان میں ڈسٹری بیوٹڈ انرجی فنانس کی صورتحال” کے عنوان سے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر ماہرین نے کہا کہ حکومت اور قومی گرڈ سے منسلک بجلی گھروں کے پاس آئندہ تین سے پانچ سال کا وقت ہے کہ وہ بجلی کو سستا بنانے کے لیے اقدامات کریں۔
ماہرین کے مطابق آنے والے وقت میں سستی بیٹری اسٹوریج ٹیکنالوجی گرڈ کی اہمیت کو مزید کم کر سکتی ہے، کیونکہ سولر صارفین دن کے ساتھ ساتھ رات اور صبح کے اوقات میں بھی بیٹری کے ذریعے بجلی استعمال کر سکیں گے۔
رپورٹ کے مطابق درآمد کیے گئے 50 گیگاواٹ میں سے تقریباً 38 گیگاواٹ سولر سسٹمز ملک میں استعمال ہو رہے ہیں، جن میں سب سے زیادہ حصہ گھریلو شعبے کا ہے۔ اس کے علاوہ صنعتی، تجارتی اور زرعی شعبوں میں بھی سولر توانائی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک کے بینکوں کے پاس تقریباً 140 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں، لیکن سولر سسٹمز کے لیے مالی معاونت نہایت محدود ہے، جس کی ایک بڑی وجہ قرض کے حصول میں درپیش مشکلات اور ضمانت کی کمی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مناسب مالی سہولیات فراہم کی جائیں تو صارفین سستی سولر بجلی کے ذریعے اپنی بچت سے قرض واپس کر سکتے ہیں، جس سے توانائی کے شعبے میں مزید بہتری ممکن ہے۔

Leave a reply