عدت نکاح کیس 8 جولائی تک ہر صورت ختم کرنا ہے، جج افضل مجوکا

0
11

اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔

جج افضل مجوکا نے ہدایت دی کہ خاور مانیکا کے وکیل 4 یا 8 جولائی میں سے ایک روز اپنے دلائل مکمل کرلیں، عدالت نے 8 جولائی تک ہر صورت کیس ختم کرنا ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے کی۔

عمران خان کے وکلاء زاہد بشیر ڈار اور مرتضیٰ طوری عدالت میں پیش ہوئے۔ سابق وزیراعظم کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سینئر وکیل سلمان صفدر تھوڑی دیر میں آ رہے ہیں، اس لیے سماعت میں مختصر وقفہ کر دیں۔ خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف کے جونیئر وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف 11 بجے عدالت میں پیش ہوں گے لہذا کیس کی سماعت میں وقفہ کیا جائے۔ عدالت نے سماعت میں وقفہ کردیا۔

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو بانی پی ٹی آئی کے وکلاء سلمان اکرم راجہ اور خالد یوسف چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں آج جزوی دلائل دوں گا، باقی کل کیلئے کیس رکھ لیں، سپریم کورٹ میں آج مخصوص نشستوں کا کیس ہے، سزا معطلی کی درخواست پر آرڈر دیکھا، میرے کچھ پوائنٹ فیصلے میں تحریر نہیں۔ جج افضل مجوکا نے سلمان اکرم راجہ سے کہا کہ آپ کے پاس پورا ٹائم ہے، آج اور کل بھی ہے۔

عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بدنیتی اور فراڈ میں مشترکہ چیز ارادہ ہوتا ہے۔ جج افضل مجوکا نے استفسار کیا کہ اگر رجوع کا حق تھا تو وہ ایک سول معاملہ ہے، اس کا کرمنل سے کیا تعلق؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ میں رجوع کر لیتا، اگر فراڈ ہوا تھا تو اسی وقت عدالت جاتے اور کہتے کہ میں نے رجوع کرنا تھا، ایک دن نکاح ہوا، دوسرے دن خاور مانیکا کو پتہ چل گیا لیکن وہ خاموش رہے۔

عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کی جانب سے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ بھی دیا گیا، انہوں نے کہا کہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ 1992 اور 1994 کی سپریم کورٹ کی ججمنٹ غیرموثر ہے، آپ جن فیصلوں کا ذکر کر رہے ہیں، ان سماعتوں میں بیٹھا کرتا تھا، میرا ایل ایل ایم کا تھیسیس اسی پر تھا، میں نے یہ نہیں کہا کہ عدت کا دورانیہ 90 دن ہے۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 39 دن کے بعد اپنے فیصلے سے عورت کو تحفظ فراہم کیا، مفتی سعید نے بھی کہا کہ عورت کی بات حتمی ہے لیکن عدالت میں غلط بیانی کی، 90 دن کا دورانیہ عدت نہیں رجوع کا وقت ہے، 90 روز کوعورت کے لیے تلوار نہیں بنایا جاسکتا۔

وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 4 گواہ ہیں، ملازم لطیف کے بیان کو ٹرائل کورٹ نے اہمیت دی، مفتی سعید کی گواہی جھوٹی ثابت ہوئی، خاورمانیکا نے لطیف کے بیان پر انحصار کیا اورخود بھی ویڈیو بیان پر غلط بیانی کی، دوسرے نکاح کی بات سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عدت پوری تھی یا نہیں، گھڑی گئی کہانی تھی جس سے بانی پی ٹی آئی کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا، یقیناً جج پر کوئی پریشر تھا کہ فیصلہ سنانے کے دن ہائیکورٹ کو لکھ دیا۔

بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گل نے کہا کہ ہم بشریٰ بی بی کی جانب سے دلائل کیلئے ایک دن لیں گے، میری ذاتی مصروفیات بھی ہیں کل سماعت رکھ لیں۔ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح سے متعلق کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کل صبح 11 بجے تک کیلئے ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ 27 جون کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا معطلی کی درخواست مسترد کردی تھی۔

Leave a reply