عالمی مالیاتی اعدادوشمارکیلئےبلومبرگ کی پاکستان سےمتعلق جائزہ رپورٹ

عالمی مالیاتی اعداد و شمار کے حوالے سے بلومبرگ نے پاکستان سے متعلق اپنی جائزہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں مہنگائی میں نمایاں کمی اور پالیسی استحکام کی تصدیق کی گئی ہے۔ بلومبرگ کے مطابق پاکستان میں قیمتوں کا استحکام آ رہا ہے اور معاشی نظم و نسق میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دسمبر میں افراطِ زر 5.6 فیصد رہا، جو نومبر کے 6.1 فیصد کے مقابلے میں کم اور مارکیٹ توقعات سے بھی نیچے ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں دباؤ کم ہونے سے غذائی افراطِ زر 3.24 فیصد تک محدود رہا، جبکہ بہتر دستیابی کے باعث مارکیٹ میں استحکام اور ریلیف کے آثار نمایاں ہوئے۔
بلومبرگ کے مطابق اندازوں سے کم مہنگائی نے اعتماد میں اضافہ کیا اور پالیسی سمت کی توثیق کی۔ اسٹیٹ بینک استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ تقریباً 36 سال کی کم ترین سطح پر لایا، جبکہ شرح سود میں 50 بیس پوائنٹس کمی سے قیمتوں کے قابو میں آنے کا واضح اشارہ ملا۔
کم شرح سود کے باعث کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے فنانسنگ نسبتاً سازگار ہونے کی امید بڑھی ہے۔ قیمتوں کے استحکام نے سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے مثبت سگنل دیا ہے، جبکہ کم مہنگائی سے قوتِ خرید میں بہتری اور صارفین کے لیے ریلیف کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دسمبر کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پالیسی اقدامات کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، اور مہنگائی میں مسلسل کمی معاشی استحکام اور بہتر گورننس کی مضبوط بنیاد کی عکاس ہے۔















