روزےکی حالت میں اگرقے ہوجائےتوکیاروزہ ٹوٹ جاتاہےیانہیں؟

0
7

سوال:روزےکی حالت میں اگرقے ہوجائےتوکیاروزہ ٹوٹ جاتاہےیانہیں؟
جواب:روزےکی حالت میں اگرخدانخوستہ بیماری کی وجہ سےیاپھر خود بخود بلا اختیار قے ہوجائے چاہے منہ بھر ہو یا کم ہودونوں صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹتا۔جبکہ اس کےبرعکس قصداً (جان بوجھ کر) قے کرنے سے اگر منہ بھر ہو تو بالاتفاق روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
ترجمہ:’’ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس نے بے اختیارقے کی، اُس پر قضا نہیں اور جس نے قصداً قے کی، اُس پر روزے کی قضا ہے ،(سُنن ترمذی :720)‘‘۔
تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے: ترجمہ:’’ اگر بلااختیار قے ہوگئی اور حلق میں نہ لوٹی تو مطلقاً روزہ نہیں ٹوٹے گا خواہ منہ بھر ہو یا منہ بھر نہ ہو ‘‘۔
مزید لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ اور اگر قصداً (جان بوجھ کر) قے کی یعنی یہ اپنا روزے دار ہونا یاد تھا، تو اگر منہ بھر ہے تو اس پر اجماع ہے روزہ ٹوٹ گیا اور اگرمنہ بھر سے کم ہے تو روزہ نہیں ٹوٹا اور صحیح مذہب کے مطابق منہ بھر سے کم میں نہیں ٹوٹتا ،( جلد3،ص: 349 تا 352)‘‘۔
علامہ نظام الدین رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’قے کے یہ احکام اس وقت ہیں جب قے میں کھانا یا صفراء یا خون آئے، اگر بلغم آیا تو روزہ نہیں ٹوتا ‘‘۔(فتاویٰ عالمگیری ، جلد 1 ، ص: 204 )

Leave a reply