ایران کے خلاف جنگ: ٹرمپ کے اختیارات محدود؟کانگریس کا اہم فیصلہ متوقع، بڑا بریک تھرو

0
4

واشنگٹن میں ایران سے ممکنہ جنگ کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات زیر بحث آ گئے ہیں، جبکہ امریکی کانگریس آج اس حوالے سے اہم فیصلہ کرے گی۔
قانون کے مطابق امریکی صدر کو 60 دن کے اندر جنگ کے لیے کانگریس سے منظوری لینا ہوتی ہے، اور یہ مدت آج مکمل ہو چکی ہے۔وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ چونکہ جنگ بندی کی کوئی مقررہ مدت نہیں رکھی گئی، اس لیے اس کا مطلب ہے کہ جنگ عملاً ختم ہو چکی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق 7 اپریل کو ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی تھی، جسے بعد ازاں غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا گیا، اور اس کے بعد سے کسی قسم کی فائرنگ یا جھڑپ رپورٹ نہیں ہوئی۔
خبر ایجنسی کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ وار پاورز ایکٹ کے تناظر میں 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی اب ختم ہو چکی ہے، اس لیے صدر کو مزید کانگریسی منظوری درکار نہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ جنگ کے اختتام اور کانگریس سے منظوری کی ضرورت کا تعین وائٹ ہاؤس خود کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ 60 دن کی پابندی کی مدت اب غیر مؤثر ہو چکی ہے۔ادھر امریکی سینیٹ میں صدر کے اختیارات محدود کرنے کی ڈیموکریٹس کی ایک اور کوشش ناکام ہو گئی۔ کیلیفورنیا سے سینیٹر ایڈم شف کی قرارداد 50 کے مقابلے میں 47 ووٹوں سے مسترد کر دی گئی، جس کا مقصد ایران جنگ کے بعد امریکی افواج کی واپسی کو یقینی بنانا تھا۔

Leave a reply