پنجاب بجٹ میں تنخواہوں میں7اور پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز

0
18

پنجاب حکومت آج مالی سال 27-2026 کے لیے 5131 ارب روپے حجم کا بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کرے گی، جس میں ترقیاتی منصوبوں، عوامی ریلیف اور نوجوانوں کی فلاح پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبے کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ 3569 ارب 60 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بجٹ دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں۔

کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ محدود وسائل کے باوجود عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے سے گریز کیا گیا ہے۔ انہوں نے بجٹ کو امید اور عوامی فلاح کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے وسائل کو عوام کی بہتری اور ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

بجٹ تجاویز کے تحت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد جبکہ پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح پی ایف سی ایوارڈ کے تحت بلدیاتی اداروں کے لیے 803 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

دستاویز کے مطابق تعلیم کے شعبے کے لیے 750 ارب روپے اور صحت کے لیے 500 ارب روپے مختص کیے جانے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ سروس ڈلیوری کے اخراجات کے لیے 783 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

صوبائی حکومت نے سرکاری اداروں کے روزمرہ اخراجات کے لیے 578 ارب روپے اور دیگر جاری اخراجات کے لیے 679 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔

بجٹ میں نوجوانوں کی ترقی کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ ایک لاکھ سے زائد لیپ ٹاپس اور ہونہار اسکالرشپ پروگرام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ نوجوانوں کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج بھی متعارف کرایا جائے گا۔

دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران صنعتی ترقی کے لیے 783 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے نئی لینڈ لیز پالیسی متعارف کرانے کی تجویز بھی شامل ہے۔

پنجاب حکومت نے اخراجات میں کمی اور انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانے کے لیے رائٹ سائزنگ پالیسی پر بھی عملدرآمد کا فیصلہ کیا ہے۔

Leave a reply