
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ اپنے نظریے پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے وزیراعلیٰ ہاؤس چھوڑنے کو تیار ہیں اور صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان کو مسترد کیا۔
سہیل آفریدی کو موجودہ سیاسی صورتحال میں مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب ہونے والا مارچ مؤخر کرکے 4 اکتوبر تک ملتوی کر دیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ کو عہدہ چھوڑنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان کا ذکر کیا۔
امن و امان کی صورتحال پر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور سکیورٹی اداروں نے امن کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ حالات کے باعث صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہوئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے وفاقی حکومت کو صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور دیگر متعلقہ معاملات سے متعدد بار آگاہ کیا ہے۔















