امریکا کے ساتھ جنگ میں ہتھیار نہیں ڈالیں گے ایرانی صدر کااقوام متحدہ میں خطاب

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خطاب کے دوران میناب اسکول پر امریکی حملے کی تصاویر عالمی برادری کے سامنے پیش کیں، جس کے بعد امریکی مندوب اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے دوران ایران کے بے گناہ شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے امریکا کے خلاف جنگ میں اپنے دفاع کا حق استعمال کیا اور امریکی اہداف کو نشانہ بنایا، شہریوں کو نہیں۔
ایرانی صدر کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر کو کسی قانونی جواز کے بغیر قتل کیا گیا، جبکہ ایران پر حملوں کے دوران عالمی اصولوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ امریکی حملوں میں سیکڑوں افراد شہید اور ہزاروں بے گھر ہوئے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ پُرامن جوہری ٹیکنالوجی ایران کا حق ہے۔ ایران کو ایٹمی توانائی کی ضرورت ہے، ایٹمی بم کی نہیں، کیونکہ جوہری توانائی ملک کی ترقی کا حصہ اور پُرامن مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران دوسروں کی سلامتی کی قیمت پر اپنی سلامتی حاصل نہیں کرنا چاہتا اور علاقائی مسائل خطے کے ممالک کو مل کر حل کرنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ایسے ہتھیاروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا جو اس کے خلاف استعمال کیے جائیں۔
ایرانی صدر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ ایران کے معاملے میں دوہرے معیار کا خاتمہ کیا جائے۔ ان کے مطابق ایران سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے لیکن دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران نے کبھی جارحیت کا آغاز نہیں کیا اور ہمیشہ مذاکرات کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے امریکا پر آبی گزرگاہ میں رکاوٹیں ڈالنے اور عالمی قوانین کی پاسداری نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
ایرانی صدر نے اسرائیل کی جانب سے اسماعیل ہانیہ کی ایران میں ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کی صورتحال عالمی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اپنے ملک کے دفاع کے لیے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔















