پاکستان میں جان لیوا بیماریوں کی ادویات نایاب، مریض مشکلات کا شکار

0
2

پاکستان میں کینسر، دل کے امراض، ذیابیطس اور دیگر جان لیوا بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی 100 سے زائد ضروری ادویات کی قلت نے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
ادویات کی شدید قلت کی بنیادی وجہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ )کی جانب سے دو سال قبل ارسال کردہ قیمتوں میں نظرِ ثانی کی سفارشات پر وفاقی کابینہ کی طرف سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہ ہو پانا ہے، ادویہ ساز کمپنیوں نے پیداواری لاگت بڑھنے پر پیداوار کم یا بند کردی، اسمگل اور جعلی ادویات کا خطرہ بھی بڑھ گیا۔
پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالصمد بڈھانی نے اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے تقریباً دو سال قبل 105 ضروری ادویات کی قیمتوں میں نظرثانی کی سفارش منظور کرلی تھی، تاہم یہ معاملہ تاحال وفاقی کابینہ کی منظوری کا منتظر ہے، جس کے باعث ان ادویات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔
ادویہ ساز کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ خام مال، توانائی، پیکیجنگ، ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث موجودہ قیمتوں پر ان ادویات کی تیاری معاشی طور پر ممکن نہیں رہی، اسی وجہ سے متعدد کمپنیوں نے ان کی پیداوار کم کر دی ہے یا مکمل طور پر بند کر دی ہے۔
عبدالصمدبڈھانی نے بتایا کہ قلت کا شکار ادویات میں کینسر کی کیموتھراپی، انسولین، دل کے دورے، شدید درد، بچوں کی بیماریوں، آنکھوں کے امراض، ویکسینز اور دیگر لائف سیونگ ادویات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈریپ کی پرائسنگ کمیٹی تقریباً 100 ضروری ادویات اور 45 نئے کیمیکل پر مبنی ادویات کی قیمتوں کی منظوری دے چکی ہے، مگر یہ فیصلے وفاقی کابینہ میں زیر التوا ہیں۔
ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ ان کیسز کو فوری منظور یا مسترد کرے تاکہ غیر یقینی صورتحال ختم ہو سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئی اور مؤثر کینسر ادویات کی منظوری میں تاخیر کے باعث مریض اسمگل شدہ ادویات خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس سے جعلی اور غیر معیاری ادویات مارکیٹ میں آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ حال ہی میں کراچی میں کارروائی کے دوران اسمگل شدہ کینسر ادویات بھی برآمد کی گئی تھیں۔
عبدالصمد بڈھانی کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جعلی ادویات کی روک تھام کے لیے کیو آر کوڈ سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے مریض ادویات کی اصلیت اور قیمت کی تصدیق کر سکیں گے۔تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ادویات کی قیمتوں اور منظوری کا معاملہ کابینہ کی ایک خصوصی کمیٹی کے پاس ہے، جس میں متعدد وفاقی وزراء شامل ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جان بچانے والی ادویات کی قلت کے مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ مریضوں کو بروقت علاج میسر آسکے۔

Leave a reply