مصنوعی ذہانت کے دور میں گوگل کو نئے چیلنجز کا سامنا

0
5

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں بڑھتے ہوئے مقابلے اور صارفین کے بدلتے رجحانات کے باعث نئے چیلنجز درپیش ہیں۔

سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق گوگل ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں ایک طرف مصنوعی ذہانت سے چلنے والے چیٹ بوٹس تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایسے صارفین کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے جو اپنی آن لائن سرگرمیوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو پسند نہیں کرتے۔

رپورٹ کے مطابق چیٹ جی پی ٹی ماہانہ ایک ارب سے زائد فعال صارفین کی حد عبور کر چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایپل کے آئی او ایس پلیٹ فارم پر چیٹ جی پی ٹی اس وقت مقبول ترین مفت ایپ بن چکی ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کا چیٹ بوٹ کلاڈ بھی مقبول ایپس میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ گوگل کی اپنی مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپ جیمنائی بھی سخت مقابلے کا سامنا کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق زیادہ تر صارفین اب روایتی سرچ نتائج کے بجائے ایسے چیٹ بوٹس کو ترجیح دے رہے ہیں جو سوالات کے جوابات مکالماتی انداز میں فوری اور جامع طریقے سے فراہم کرتے ہیں۔

دوسری جانب پرائیویسی پر توجہ دینے والا سرچ انجن ڈک ڈک گو مصنوعی ذہانت سے گریز کرنے والے صارفین میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ کمپنی نے “نو اے آئی” سرچ اور براؤزر ایکسٹینشنز متعارف کرائی ہیں، جن کی تنصیب میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

گوگل کو ایک اور چیلنج اپنی مصنوعی ذہانت پر مبنی خصوصیات اے آئی اوور ویوز اور اے آئی موڈ کی صورت میں درپیش ہے۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ سرچ نتائج میں ان فیچرز کی شمولیت انہیں غیر ضروری مداخلت محسوس ہوتی ہے۔

گوگل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سندر پچائی نے بھی تسلیم کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے باعث لوگ مستقبل میں آنے والی تبدیلیوں کے حوالے سے فکرمند ہیں، اور یہ تشویش کسی حد تک جائز ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ویب سائٹ مالکان پر اس تبدیلی کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق گوگل پر ہونے والی تقریباً 68 فیصد سرچز ایسی ہوتی ہیں جن میں صارف کسی بیرونی ویب سائٹ پر کلک نہیں کرتا۔

اگرچہ سرچ انجن مارکیٹ میں اب بھی گوگل کا تقریباً 90 فیصد حصہ موجود ہے اور کمپنی کی مالی کارکردگی مضبوط ہے، تاہم چیٹ جی پی ٹی اور ڈک ڈک گو جیسے متبادل پلیٹ فارمز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے گوگل کے لیے نئی آزمائشیں پیدا کر دی ہیں۔

Leave a reply