اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز رات نوبجے بند کرنےکافیصلہ، نوٹیفکیشن جاری

0
6

وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے معاملے پرکفایت شعاری مہم کا اعلان کردیا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کفایت شعاری مہم کے نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد میں دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز رات 9 بجےبند کردیے جائیں گے۔ شادی ہالز، مارکی اور دیگرکمرشل ایکٹویٹیز رات 10 تک بند ہوں گی۔ تمام ہوٹل، ریسٹورنٹس،کیفے رات 11 بجے بندکردیےجائیں گے۔کفایت شعاری مہم کی مدت 3 ماہ مقرر کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق فارمیسی،لیبارٹریز،کلینک،اسپتال،تندور، پیٹرول پمپس کو استثنٰی حاصل ہوگا۔ 50 فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ کردی جائیں گی۔ سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ضروری سروسز اور ایف بی آرکی آپریشنل گاڑیاں ایندھن میں کمی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تمام اقسام کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ سرکاری اداروں میں آئی ٹی آلات کی خریداری کے علاوہ تمام پائیدار اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تین ماہ کے لیے بیرون ملک سرکاری دوروں اور سفرپر مکمل پابندی ہوگی۔ ناگزیربیرون ملک دوروں کی صورت میں وزرا، مشیران، سرکاری افسران اکانومی کلاس میں سفرکریں گے۔ سرکاری اجلاس ترجیحاً ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقدکرنےکی ہدایت کی گئی ہے۔ آرمڈ فورسز، سول آرمڈ فورسز، قانون نافذ کرنے والےاداروں کی گاڑیاں ایندھن کی کمی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
اس کے علاوہ سرکاری عشائیوں کی میزبانی پرپابندی لگادی گئی ہے، غیرملکی وفود کے اعزاز میں عشائیے مستثنیٰ ہیں۔ حکومت کے خرچ پر سرکاری سیمینارز، تربیتی پروگرامز اورکانفرنسز پرپابندی ہوگی۔ ناگزیرسرکاری تقریبات کے لیے سرکاری آڈیٹوریم اورکمیٹی رومز استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ شادی سے متعلق تقریبات میں صرف ایک ڈش پیش کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ٹیک آوے اور ہوم ڈیلیوری سروسزمقررہ 11 بجےکی بندش سےمستثنیٰ ہوں گی۔ بیکریاں،دودھ وڈیری شاپس بھی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ جم،کھیلوں کی سہولتیں پیڈل کورٹس، آئی ٹی کمپنیاں،کال سینٹرز اوقات کارکی پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کفایت شعاری اقدامات سے استثنیٰ کی درخواستیں کیس ٹوکیس بنیاد پر زیر غورلائی جائیں گی۔ استثنیٰ کی منظوری کےلیے کمیٹی اپنی سفارش وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ صوبائی اور علاقائی حکومتیں وفاقی حکومت جیسےکفایت شعاری اقدامات اپنانے پر غورکرسکتی ہیں۔

Leave a reply