
طلبا کیساتھ اساتذہ کیلئےاہم خبر،آن لائن اکیڈمیز اور ٹیچرز کی آمدن پر بھی ٹیکس لگانے کا فیصلہ،آن لائن ایجوکیشنل سروسز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ای کامرس بزنس کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کا بڑا فیصلہ کر لیا گیا۔
قائمہ کمیٹی نے آن لائن تعلیمی اداروں اور اکیڈمیز پر ٹیکس لگانے کی تجویز منظور کرلی۔ اب آن لائن اکیڈمیز، ٹیوٹرز اور ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنیوالے تمام افراد اور ادارے انکم ٹیکس کے دائرے میں آئیں گے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق ملک بھر میں ہزاروں آن لائن ٹیچرز اور اکیڈمیز ڈیجیٹل ایجوکیشن سروسز فراہم کر رہے ہیں، جن کی آمدن کروڑوں روپے تک جا پہنچتی ہے،بعض ٹیوٹر اکیڈمیز سالانہ دو سے تین کروڑ روپے کما رہی ہیں اور وہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔
چیئرمین ایف بی آرکا کہنا ہے کہ آن لائن اکیڈمیز دو دو کروڑ روپے ماہانہ کما رہی ہیں، اگر کوئی ٹیچر آن لائن کما رہا ہے تو ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔
Leave a reply جواب منسوخ کریں
مزید دیکھیں
-
ارشدندیم کی کامیابی:شوبزشخصیات بھی خوشی سےجھوم اٹھیں
اگست 9, 2024 -
مخصوص نشستوں پرحلف برداری کااقدام عدالت میں چیلنج
جولائی 21, 2025 -
بانی پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل میں کمرہ کیسا ہے
جون 6, 2024
اہم خبریں
سائنس/فیچر

پاکستان ٹوڈے ڈیجیٹل نیوز پر شائع ہونے والی تمام خبریں، رپورٹس، تصاویر اور وڈیوز ہماری رپورٹنگ ٹیم اور مانیٹرنگ ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔ ان کو پبلش کرنے سے پہلے اسکے مصدقہ ذرائع کا ہرممکن خیال رکھا گیا ہے، تاہم کسی بھی خبر یا رپورٹ میں ٹائپنگ کی غلطی یا غیرارادی طور پر شائع ہونے والی غلطی کی فوری اصلاح کرکے اسکی تردید یا درستگی فوری طور پر ویب سائٹ پر شائع کردی جاتی ہے۔














