امریکا ایران معاہدے کا مسودہ تیار، چند گھنٹوں میں اعلان متوقع

0
8

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی میں تیار کیا گیا ایک مجوزہ معاہدہ سامنے آیا ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس کا حتمی مسودہ مکمل ہو چکا ہے اور جلد اس کے اعلان کا امکان ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری نشریاتی ادارے العربیہ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یہ مسودہ دونوں فریقین کی باضابطہ منظوری کا منتظر ہے، اور منظوری کی صورت میں اس کا اعلان آئندہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے کے نافذ ہوتے ہی فوری اور غیر مشروط جنگ بندی عمل میں آ جائے گی، جس کا اطلاق زمینی، فضائی اور بحری تمام محاذوں پر ہوگا۔

معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ امریکا اور ایران ایک دوسرے کی فوجی، شہری اور معاشی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنائیں گے، جبکہ میڈیا پر سخت بیانات اور پراکسی محاذ آرائی کے خاتمے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ نو نکاتی فریم ورک میں آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور خلیج عرب میں جہاز رانی کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، جبکہ نگرانی اور تنازعات کے حل کے لیے ایک مشترکہ نظام قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ معاہدے کے بعد سات دن کے اندر باقی تنازعات پر باضابطہ مذاکرات شروع ہوں گے، جبکہ ایران کی شرائط پر عمل درآمد کے بدلے امریکا مرحلہ وار اقتصادی پابندیاں نرم کرے گا۔

تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مجوزہ مسودے میں امریکا کے بعض اہم مطالبات جیسے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سخت شرائط، یورینیم افزودگی کی حد بندی اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر مکمل پابندی شامل نہیں۔

دوسری جانب اب تک ایران اور امریکا کی جانب سے اس مسودے کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی گئی، تاہم خلیجی ممالک میں اس پیش رفت پر امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش کے مطابق معاہدے کے امکانات موجود ہیں، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت میں پیش رفت کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔

اسی دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دورے پر ہیں، جہاں وہ مبینہ طور پر اعلیٰ قیادت سے اس معاملے پر ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

Leave a reply