بجٹ میں گاڑیاں مزید مہنگی؟ حکومت کا نیا ٹیکس پلان سامنے آ گیا

0
10

وفاقی بجٹ 2026-27 میں آٹو سیکٹر کے لیے اہم ٹیکس اقدامات متوقع ہیں، جن کے نتیجے میں نئی گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

آٹو انڈسٹری سے وابستہ ذرائع کے مطابق حکومت مختلف اقسام کی گاڑیوں پر یکساں 18 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اگر اس تجویز کی منظوری دی گئی تو الیکٹرک، ہائبرڈ اور روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیاں سب اس کے دائرہ کار میں آ جائیں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ پالیسی کے تحت الیکٹرک وہیکلز، پلگ اِن ہائبرڈ ماڈلز، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیاں، ہائبرڈ کاریں اور پیٹرول سے چلنے والی گاڑیاں ایک ہی ٹیکس شرح کے تابع ہوں گی۔ اس اقدام سے ماحول دوست گاڑیوں کو حاصل خصوصی ٹیکس مراعات ختم ہونے کا امکان ہے۔

مارکیٹ ماہرین کے اندازوں کے مطابق الیکٹرک اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں تقریباً 17 فیصد جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں 10 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں گاڑیاں عام صارفین کی پہنچ سے مزید دور ہونے کا خدشہ ہے۔

صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اضافی ٹیکس کا بڑا حصہ خریداروں کو برداشت کرنا پڑے گا، جس سے گاڑیوں کی قیمتوں میں فوری اضافہ متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف گاڑیوں کی فروخت متاثر ہو سکتی ہے بلکہ مقامی آٹو انڈسٹری کی ترقی کی رفتار بھی سست پڑ سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ حکومت کو اس اقدام سے اضافی ریونیو حاصل ہو سکتا ہے، تاہم صاف توانائی پر مبنی ٹرانسپورٹ کے فروغ اور آٹو سیکٹر کی توسیع کے اہداف متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

Leave a reply