ٹیکنالوجی کی دنیامیں انقلاب،جنوبی کوریا میں روبوٹس کا کاروباری شعبے پر قبضہ تیز

0
8

جنوبی کوریا میں روبوٹس اور سیلف سروس ٹیکنالوجی پر مبنی کاروبار تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، جہاں مختلف دکانوں، کافی شاپس اور ریستورانوں میں انسانی عملے کے بغیر خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ان خودکار اسٹورز میں صارفین کو روبوٹس اور ڈیجیٹل سسٹمز کے ذریعے سہولت دی جاتی ہے، جبکہ زیادہ تر دکانیں 24 گھنٹے کھلی رہتی ہیں۔ مالکان کے مطابق کم لیبر لاگت کے باعث منافع میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور افرادی قوت کی کمی کے باعث جنوبی کوریا میں بغیر عملے کے کاروباری ماڈل خاص طور پر کافی شاپس، ریستورانوں اور پھولوں کی دکانوں میں تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق 2024 کے دوران ایسے خودکار اسٹورز کی تعداد تقریباً 9 ہزار تک پہنچ گئی، جبکہ اندازہ ہے کہ 2025 تک یہ تعداد 2020 کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکی ہوگی۔

ان کافی شاپس میں روبوٹس خودکار طریقے سے کافی تیار کرتے ہیں، جبکہ صرف ایک ملازم روزانہ مختصر وقت کے لیے آ کر سامان کی ری فلنگ اور صفائی کے امور انجام دیتا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق اس ماڈل کی بڑی کامیابی کم آپریشنل اخراجات ہیں، جس کے باعث ان کاروباروں کا منافع 40 فیصد سے بھی زیادہ بتایا جاتا ہے، جبکہ روایتی کافی شاپس میں منافع عموماً 10 سے 15 فیصد تک محدود رہتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا میں کم جرائم کی شرح، ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال اور افرادی قوت کی کمی نے اس جدید کاروباری ماڈل کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

Leave a reply