
خیبر پختونخوا اسمبلی نے صحافیوں سے متعلق قید، جرمانے اور پابندیوں پر مشتمل قانون منظور کرلیا، جبکہ اراکین اسمبلی کی تنخواہوں، مراعات اور استثنیٰ سے متعلق قانون کا گزٹیڈ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 30 اپریل کو اضافی ایجنڈے کے ذریعے منظور کیے گئے صحافیوں سے متعلق قانون کو کئی ماہ تک منظر عام پر نہیں لایا گیا۔ اب اس قانون کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد صحافتی حلقوں میں اس پر بحث شروع ہوگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق مجوزہ بل میں اسپیکر اسمبلی کو وسیع اختیارات دینے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت وہ کسی بھی صحافی کو ایوان کی کارروائی کی کوریج سے روک سکتے ہیں۔ اسپیکر پابندی کا سامنا کرنے والے افراد پر ایک مخصوص مدت کے لیے پابندی عائد کرنے کا اختیار بھی رکھیں گے۔
بل کے مطابق اسپیکر کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اسمبلی کی کسی بھی کارروائی کو شائع یا نشر کرنے سے روک سکیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ شخص یا صحافی کو 6 ماہ تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔
مجوزہ قانون کے تحت اگر کوئی صحافی یا ادارہ اسمبلی کی کارروائی کو توڑ مروڑ کر پیش کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ایسی صورت میں صحافی کو 3 سال تک قید اور 3 لاکھ روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بل میں یہ بھی شامل ہے کہ اسپیکر پر جانبداری کا الزام لگانے یا ان کے کردار پر تنقید کرنے والے صحافی کو 6 ماہ تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔
اس کے علاوہ کسی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کیے جانے سے قبل نشر یا شائع کرنے پر 3 ماہ تک قید اور 3 لاکھ روپے تک جرمانہ، جبکہ تحریک التوا کو پیش کیے جانے سے پہلے نشر یا شائع کرنے پر ایک ماہ تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔















