
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش پر دنیا بھر کے مسلمانوں میں تشویش اور غم و غصہ پایا گیا، حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حرمین شریفین ہمارے لیے ریڈ لائن ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں مقدس مقام کے قریب ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت پاکستان پہلے بھی کر چکا ہے۔
شہباز شریف نے اپنے خطاب کا آغاز قرآن پاک کی آیت کے مفہوم سے کرتے ہوئے کہا کہ اگر فریق امن کی طرف مائل ہوں تو امن کی جانب پیش قدمی کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور، عالمی امن اور خوشحالی کے اصولوں پر یقین رکھتا ہے۔
وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے باعث قیمتی جانوں کا نقصان ہوا اور عالمی معیشت بھی متاثر ہوئی۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی تجارت اور معیشت کے لیے اہم راستے ہیں، اس لیے انہیں کھلا رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ میزائلوں، ڈرونز اور جنگی کارروائیوں کے ماحول میں سفارت کاری کی آواز مزید بلند ہونی چاہیے۔
انہوں نے پاکستان کی جانب سے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، چین اور دیگر دوست ممالک کی امن کوششیں قابل قدر ہیں۔
بھارت کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو گزشتہ سال بلااشتعال جارحیت کا سامنا کرنا پڑا، تاہم پاکستانی افواج نے بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت بھی اہم رہی۔
کشمیر کے معاملے پر وزیراعظم نے کہا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ حل ضروری ہے اور کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی ادارے پر زور دیا کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
وزیراعظم نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پانی کو سیاسی یا دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور بھارت کو کوئی ایسی کارروائی نہیں کرنی چاہیے جس سے کشیدگی بڑھے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کو خطے کے امن کے لیے اہم قرار دیا۔
فلسطین کے مسئلے پر شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے غزہ میں جاری حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔















