
پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ کی نرسری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے، جبکہ امدادی ٹیم صرف ایک بچے کو بچا سکی۔
سانحہ پمز میں خوش قسمتی سے زندہ بچ جانے والی واحد بچی کو پولی کلینک ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
بچی کی خالہ کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے بعد جب وہ بچی کو اٹھانے کے لیے نرسری میں پہنچیں تو ایک خاتون ڈاکٹر نے انہیں روکنے کی کوشش کی، تاہم وہ زبردستی بچی کو اٹھا کر باہر لے آئیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بچی کی خالہ نے مزید کہا کہ پمز کی نرسری میں حفاظتی آلات بھی موجود نہیں تھے۔ بروقت کوشش کی جاتی تو مزید بچوں کی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
عینی شاہد نے بتایا کہ وہ اپنی بھابھی کے ساتھ گزشتہ دو روز سے پمز میں موجود تھیں۔ ان کے مطابق پمز کا عملہ انہیں بتائے بغیر وہاں سے چلا گیا اور کسی قسم کی مدد نہیں کی۔ جب وہ نرسری کے قریب پہنچیں تو آگ بہت زیادہ پھیل چکی تھی، جبکہ پمز کا عملہ بھاگ کر نیچے آ گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عملے نے انہیں باہر جانے سے روک دیا اور کہا کہ ’’آپ نے باہر نہیں جانا، یہ بات پھیل جائے گی۔‘‘
عینی شاہدکے مطابق انہوں نے عملے سے باہر جانے کی اجازت دینے کی درخواست کی، تاہم عملے نے ان کی بات نہیں مانی۔ ان کا کہنا تھا کہ عملے کی غفلت کے باعث کئی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد بچے جل گئے۔















