پنجاب میں پاکستان کا سب سے بڑا پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم متعارف

0
7

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازنے کہا ہے کہ پنجاب میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم قائم کیا جا رہا ہے، آئندہ پانچ سال میں صوبے بھر میں کم از کم 5 ہزار الیکٹرو بسیں چلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لیہ، اوکاڑہ، سیالکوٹ، چنیوٹ اور مری میں الیکٹرو بس سروس کا ڈیجیٹل افتتاح کر دیا اور اگست کے آخر تک صوبے بھر میں 1100 الیکٹرو بسیں فعال کرنے کا ہدف مقرر کر دیا۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے پانچوں اضلاع کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں جدید اور ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کا دائرہ تیزی سے وسیع کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان اور سیکرٹری ٹرانسپورٹ عمران سکندر بلوچ کو منصوبے پر کامیاب پیش رفت پر شاباش بھی دی۔
حکام نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ پہلے مرحلے میں 1100 الیکٹرو بسیں چلائی جائیں گی، جبکہ رواں مالی سال کے دوران مزید 1500 الیکٹرو بسیں بھی پنجاب پہنچیں گی، پانچ نئے اضلاع میں 10 روٹس پر 51 الیکٹرو بسیں چلائی جائیں گی، جبکہ پنجاب کے مزید 9 اضلاع میں 101 بسیں جولائی کے آخر تک سروس کا حصہ بن جائیں گی۔
حکام کا کہنا تھا کہ لیہ، اوکاڑہ، سیالکوٹ، چنیوٹ اور مری کے لیے مختلف روٹس مختص کیے گئے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر پنجاب کے 24 اضلاع میں 500 الیکٹرو بسیں چلائی جا رہی ہیں۔
مریم نوازنے کہا کہ الیکٹرو بس منصوبہ 200 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والا پاکستان کا سب سے بڑا عوامی پبلک ٹرانسپورٹ منصوبہ ہے ، 5 اگست تک 1100 بسیں پنجاب پہنچ جائیں گی اور اگست کے آخر تک انہیں مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں پنجاب میں کم از کم 5000 الیکٹرو بسیں چل رہی ہوں اس وقت الیکٹرو بس سروس پر روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ، خواتین اور بزرگ شہری الیکٹرو بس سروس پر مفت سفر کی سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ گوجرانوالہ، گجرات، شیخوپورہ، ملتان، وہاڑی، قصور، لودھراں، ننکانہ اور نارووال میں بھی جولائی کے آخر تک الیکٹرو بسیں چلنا شروع ہو جائیں گی۔

Leave a reply