
’’ شمیم بی بی میری بیگم دا ناں اے‘‘ شہری کے جواب پر وفاقی آئینی عدالت میں مسکراہٹیں بکھر گئیں۔
وفاقی آئینی عدالت میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب عدالتی عملے نے ’شمیم بی بی‘ کیس کی پکار لگائی اور ایک دیہاتی شہری فوری طور پر روسٹرم پر آ گیا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے شہری سے پوچھا، ’آپ روسٹرم پر کیوں آئے ہیں؟‘ جس پر شہری نے پنجابی میں جواب دیا، ’شمیم بی بی میری بیگم دا ناں اے ۔
شہری کا جواب سن کر جسٹس حسن اظہر رضوی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’شمیم بی بی آپ کی بیگم کیسے ہو سکتی ہے؟ فائل کے مطابق تو شمیم بی بی بیوہ ہیں۔
شہری نے دوبارہ وضاحت کی کہ ’شمیم واقعی میری بیوی کا نام ہے‘۔اس پر جسٹس رضوی نے مسکراتے ہوئے پوچھا، ’اچھا یہ بتاؤ، تمہاری شادی کب ہوئی تھی؟‘ شہری نے جواب دیا، ’مجھے اپنی شادی کی تاریخ یاد نہیں‘۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے دوبارہ استفسار کیا، ’پھر آپ کو کیا یاد ہے؟‘ جس پر شہری نے کہا، ’میری شادی کو 20 سے 25 سال ہو گئے ہیں‘۔
بعدازاں جسٹس رضوی نے ہلکے پھلکے انداز میں پوچھا، ’جب شادی ہوئی تھی تو کس کی حکومت تھی؟‘ اس پر شہری نے جواب دیا، ’میں دیہاتی آدمی ہوں، مجھے حکومت کا نہیں معلوم‘۔
گفتگو کے اختتام پر عدالت نے شہری کو بتایا کہ یہ اس کا مقدمہ نہیں ہے اور ہدایت کی کہ وہ واپس اپنی نشست پر بیٹھ جائے، جس پر کمرۂ عدالت میں مسکراہٹیں بکھر گئیں۔















