انتخابی نتائج غیر متوقع تھے اور شکست سے پارٹی قیادت کو شدید دھچکا پہنچا، جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکی ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کی ایک بڑی وجہ بنی، جس کے نتیجے میں پارٹی کو سینیٹ کا کنٹرول کھونا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ایران جنگ نے انتخابی نتائج پر منفی اثر ڈالا۔
جے ڈی وینس کے مطابق انتخابی نتائج غیرمتوقع تھے اور شکست سے پارٹی قیادت کو شدید دھچکا پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی بھی شکست کی اہم وجوہات میں شامل رہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ انتخابی شکست کی ذمہ داری ووٹرز کے ٹرن آؤٹ پر ڈالنا درست نہیں، کیونکہ ریپبلکن ووٹرز بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے نکلے تھے۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ اور وینس کی حمایت کرنے والے بہت سے ووٹرز نے 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کو ووٹ دیا۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ان سابق حامیوں کی ناراضی کو سنجیدگی سے سمجھنے اور حکومتی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ووٹرز کی جانب سے جنگ ختم کرنے، مہنگائی پر قابو پانے، امریکی مفادات کو ترجیح دینے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ انتخابی شکست کی وجوہات پر سنجیدہ بحث کے بغیر آئندہ کے لیے درست حکمت عملی مرتب کرنا مشکل ہوگا۔















