
سعید غنی نے کہا کہ سندھ میں انتظامی یونٹس کی آڑ میں صوبے کو تقسیم کرنے کی کوئی کوشش قابل قبول نہیں ہوگی، سندھ میں ایک ہی وزیر اعلیٰ، ایک گورنر، ایک اسمبلی اور ایک کابینہ ہوگی۔
انہوں نے جماعت اسلامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کراچی میں نئی ایم کیو ایم بننے کی کوشش کر رہی ہے اور نفرت کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے، جبکہ ہڑتال، جلاؤ گھیراؤ اور خوف و ہراس پھیلانا سیاسی عمل نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کی ہر کوشش کی مخالفت کرتی ہے اور سندھ اسمبلی میں اس حوالے سے پہلے بھی متعدد قراردادیں منظور ہوچکی ہیں، جبکہ آئندہ بھی بھاری اکثریت سے ایسی قرارداد منظور ہونے کی توقع ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ ہر صوبے کی اسمبلی کا اختیار ہے اور پنجاب اسمبلی اگر نئے صوبوں سے متعلق قرارداد منظور کرتی ہے تو یہ اس کا معاملہ ہے، تاہم سندھ کے منتخب نمائندے صوبے کی تقسیم کے خلاف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام نے ہمیشہ علیحدگی پسند اور قوم پرست جماعتوں کو مسترد کیا اور پیپلز پارٹی کو کامیاب بنایا، جو صوبے کے حقوق کا تحفظ کرتی رہے گی۔
انتظامی یونٹس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ڈویژن، اضلاع اور سب ڈویژن پہلے ہی انتظامی نظام کا حصہ ہیں، ان کی تعداد یا حدود میں اضافے پر بات ہوسکتی ہے، لیکن ان کی آڑ میں سندھ میں ایسا کوئی نیا نظام قبول نہیں کیا جائے گا جس سے صوبے کی وحدت یا ایک ہی صوبائی حکومت کا تصور متاثر ہو۔















