طاقت کے باوجود ناکامی،ٹرمپ ایران کیخلاف جنگ سے پیچھےہٹ جائیں گے،دی اکنامسٹ

0
7

برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی جانب نہیں جائیں گے اور وہ اس بات کا ادراک کر چکے ہیں کہ یہ جنگ شروع نہیں کرنی چاہیے تھی۔
رپورٹ کے مطابق ہر جنگ میں کم از کم ایک فریق کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور اگر ایران میں جاری صورتحال سیز فائر کے ذریعے ختم ہوتی ہے تو اس میں سب سے زیادہ سیاسی نقصان امریکی صدر ٹرمپ کا ہوگا۔
جریدے کے مطابق ایران کے خلاف اس تنازع نے امریکی طاقت کے استعمال کے حوالے سے ٹرمپ کے وژن کی کمزوری کو بھی بے نقاب کیا ہے۔
دی اکانومسٹ کے مطابق ٹرمپ جانتے ہیں کہ نئی جنگ عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا کر سکتی ہے، اور’’سنہری دور‘‘ کے دعووں کے بعد اس کے سیاسی اثرات ان کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ٹرمپ کے تین بڑے اہداف مشرق وسطیٰ کو محفوظ بنانا، ایرانی حکومت کی تبدیلی اور ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنازیادہ تر پورے نہیں ہو سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران کے پاس بھی پسپائی کی وجوہات موجود ہیں، کیونکہ اس کی قیادت مسلسل دباؤ کا شکار ہے اور توانائی و نقل و حمل کے نظام کی تباہی نے ملک کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ایران پابندیوں میں نرمی چاہتا ہے، تاہم اسے یہ بھی اندازہ ہے کہ وقت مذاکرات میں اس کے حق میں جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ کشیدگی جوہری خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے، کیونکہ اگرچہ ایران کی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، لیکن اس کے پاس اب بھی افزودہ یورینیم موجودہے جو کئی ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔

Leave a reply