مظاہرین کاامریکی وزیرجنگ کاگھیراؤ،جنگی مجرم کےنعرے

ایران کے ساتھ کشیدگی اور مبینہ جنگی صورتحال کے بعد امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پہلی مرتبہ امریکی کانگریس کی ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے اجلاس میں پیش ہوئے، جہاں انہیں سخت احتجاج اور نعرے بازی کا سامنا کرنا پڑا۔
اجلاس کے آغاز پر ہی متعدد مظاہرین نے انہیں گھیر لیا اور ان کے خلاف “جنگی مجرم” کے نعرے لگائے۔ صورتحال اس وقت بھی جاری رہی جب وہ ایوان میں داخل ہو رہے تھے۔
ایک امریکی خاتون صحافی کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہال میں شور شرابا اور نعرے بازی جاری ہے، تاہم پیٹ ہیگستھ نے کسی ردعمل کے بغیر اپنی نشست کی طرف بڑھنا جاری رکھا۔
انہوں نے نہ مظاہرین کے نعروں پر کوئی جواب دیا اور نہ ہی صحافیوں کے سوالات کا کوئی تبصرہ کیا۔
دوسری جانب کمیٹی میں آئندہ مالی سال کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دفاعی بجٹ کو 1.5 کھرب ڈالر تک بڑھانے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
اجلاس کے دوران جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی “ایپک فیوری” پر تفصیلی بریفنگ دی اور اراکین کو خطے کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔
یہ پہلا موقع تھا کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی ماحول کے دوران امریکی وزیر دفاع نے ایوان نمائندگان کے سامنے باضابطہ طور پر پیش ہو کر موقف دیا۔















