AI چیٹ بوٹس اور مریضوں کے درمیان اعتماد کا بحران، تحقیق میں انکشافات

صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود ایک نئی بین الاقوامی تحقیق نے اہم خدشات کو اجاگر کیا ہے۔
تحقیق کے مطابق مستقبل میں ایسے نظام متعارف ہونے جا رہے ہیں جہاں ڈاکٹر سے ملاقات سے قبل مریضوں سے مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹمز ابتدائی سوالات کریں گے، علامات کا تجزیہ کریں گے اور ممکنہ ہنگامی صورتحال کا اندازہ بھی لگائیں گے، تاہم تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لوگ AI چیٹ بوٹس کے ساتھ بات کرتے وقت اپنی علامات مکمل تفصیل سے بیان نہیں کرتے۔
یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے “نیچر ہیلتھ” میں شائع ہوئی، جس میں کہا گیا ہے کہ مریض انسانی ڈاکٹروں کے مقابلے میں مصنوعی ذہانت کو کم تفصیلی معلومات فراہم کرتے ہیں، جس سے تشخیص کے معیار پر اثر پڑ سکتا ہے۔
مطالعے کے دوران مختلف یونیورسٹیوں اور اسپتالوں سے تعلق رکھنے والے محققین نے 500 افراد کو فرضی طبی علامات پر رپورٹس تیار کرنے کو کہا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جب شرکا کو بتایا گیا کہ ان کی معلومات AI سسٹم کو دی جا رہی ہیں تو انہوں نے نسبتاً مختصر اور کم تفصیل پر مبنی معلومات فراہم کیں۔
محققین کے مطابق یہ فرق اگرچہ معمولی نظر آتا ہے، لیکن طبی تشخیص کے عمل میں یہ اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کئی افراد کو مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے وہ ضروری معلومات شیئر کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف AI ٹیکنالوجی کو بہتر بنانا کافی نہیں، بلکہ ایسے نظام تیار کرنا بھی ضروری ہے جو مریضوں کو واضح رہنمائی دیں اور مکمل معلومات فراہم کرنے کی ترغیب دیں تاکہ درست تشخیص ممکن ہو سکے۔
Leave a reply جواب منسوخ کریں
اہم خبریں
سائنس/فیچر

پاکستان ٹوڈے ڈیجیٹل نیوز پر شائع ہونے والی تمام خبریں، رپورٹس، تصاویر اور وڈیوز ہماری رپورٹنگ ٹیم اور مانیٹرنگ ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔ ان کو پبلش کرنے سے پہلے اسکے مصدقہ ذرائع کا ہرممکن خیال رکھا گیا ہے، تاہم کسی بھی خبر یا رپورٹ میں ٹائپنگ کی غلطی یا غیرارادی طور پر شائع ہونے والی غلطی کی فوری اصلاح کرکے اسکی تردید یا درستگی فوری طور پر ویب سائٹ پر شائع کردی جاتی ہے۔














