آبنائے ہرمز کی بندش: عالمی معیشت کی شہ رگ پر ایک وار

0
27

بلاگ:حافظ عاصم شیروانی
دنیا کے نقشے پر محض چند میل چوڑی یہ سمندری پٹی اب محض ایک آبی گزرگاہ نہیں رہی، بلکہ یہ وہ بارودی سرنگ بن چکی ہے جس پر پوری عالمی معیشت کا پاؤں آ چکا ہے۔ آبنائے ہرمز، جسے بجا طور پر جدید دنیا کی ’’معاشی شہ رگ‘‘ کہا جاتا ہے، آج تاریخ کے سب سے مہیب تزویراتی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ اس مقام کی چوڑائی اپنے تنگ ترین حصے میں صرف 21 میل ہے، لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اگر یہ بند ہو جائے تو دنیا بھر کی گاڑیاں، کارخانے اور بجلی گھر چند ہی ہفتوں میں رک سکتے ہیں۔
اپریل 2026 کا موجودہ منظرنامہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی آگ اب سرحدوں اور شہروں سے نکل کر سمندروں تک پہنچ چکی ہے۔ جہاں ایک طرف “آپریشن ایپک فیوری” کے دھوئیں نے خطے کے آسمان کو تاریک کر رکھا ہے، وہیں دوسری طرف آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی منڈیوں میں ایک ایسا خوف پیدا کر دیا ہے جس کی بازگشت واشنگٹن، لندن اور ٹوکیو کے اسٹاک ایکسچینجز میں سنی جا رہی ہے۔ سرمایہ کار گھبراہٹ کا شکار ہیں اور ہر روز اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت کا اندازہ محض اس ایک حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کی کل خام تیل کی کھپت کا تقریباً 30 فیصد اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا 20 فیصد حصہ روزانہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے ہر تین میں سے ایک بیرل تیل کا انحصار اسی راستے کے کھلے رہنے پر ہے۔ موجودہ کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کے ردعمل میں، اس گزرگاہ پر تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کی آمد و رفت عملی طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔
یہ بندش کوئی روایتی فوجی ناکہ بندی نہیں ہے، بلکہ یہ ڈرون ٹیکنالوجی، اسمارٹ مائنز اور اینٹی شپ میزائلوں کے سائے میں لڑی جانے والی ایک جدید’’ہائیبرڈ وارفیئر‘‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ماضی میں جنگیں صرف فوجوں کے درمیان ہوتی تھیں، لیکن آج سستے ڈرونز اربوں ڈالر کے بحری جہازوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گئے ہیں۔
سمندری انشورنس کمپنیوں نے پریمیم کے نرخ اتنے بڑھا دیے ہیں کہ جہاز رانی کی کمپنیوں کے لیے اس راستے کا انتخاب کرنا ایک معاشی خودکشی بن چکا ہے۔ ایک عام تجارتی جہاز کو اب اس راستے سے گزرنے کے لیے کروڑوں روپے صرف انشورنس کی مد میں دینے پڑ رہے ہیں، جس کی وجہ سے کئی کمپنیوں نے اپنے جہاز کھڑے کر دیے ہیں۔
اس آبی گزرگاہ کی جزوی یا مکمل بندش کا سیدھا مطلب توانائی کے عالمی بحران کا آغاز ہے۔ بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اور اچانک اچھال نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر، دونوں طرح کی معیشتوں کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ اس بحران نے دنیا کو مختلف حصوں میں کچھ اس طرح متاثر کیا ہے۔
امریکا اور یورپ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے براہ راست اشیائے خورونوش اور سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔ عام شہری، جو پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا شکار تھا، اب ایک نئے معاشی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ سپر مارکیٹوں میں عام استعمال کی چیزیں بھی مہنگی ہو گئی ہیں کیونکہ انہیں لانے والے ٹرکوں کا ایندھن مہنگا ہو چکا ہے۔
ایشیائی معیشتیں، خاص طور پر چین، جاپان اور بھارت، جو توانائی کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر بے حد انحصار کرتے ہیں، پیداواری لاگت بڑھنے کی وجہ سے اپنی صنعتوں کو سست کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ فیکٹریاں کم وقت کے لیے چل رہی ہیں، جس سے دنیا بھر میں الیکٹرانکس سے لے کر کپڑے تک، ہر چیز کی پیداوار میں کمی آ رہی ہے۔
کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ جہاز اپنا راستہ بدل کر افریقہ کے گرد چکر لگا سکتے ہیں۔ لیکن اس متبادل راستے (کیپ آف گڈ ہوپ) سے جانے کا مطلب ہے سفر میں کئی ہفتوں کا اضافہ اور کروڑوں ڈالر کا اضافی خرچ۔ اس خرچ کا بوجھ بھی آخر کار عام آدمی کی جیب پر ہی پڑتا ہے۔
یہ بحران اس بات کا بھی واضح ثبوت ہے کہ محض بحری بیڑوں کی موجودگی اور جدید ترین جنگی جہاز سمندری تجارت کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی بھاری بحری موجودگی کے باوجود، آبنائے ہرمز کے تنگ اور پیچیدہ جغرافیے میں تجارتی جہازوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنا تکنیکی اور عسکری لحاظ سے تقریباً ناممکن ثابت ہو رہا ہے۔ سمندر کے نیچے بچھی ہوئی بارودی سرنگیں اور اچانک حملہ کرنے والے ڈرونز نے بڑی بڑی نیوی فورسز کو بے بس کر دیا ہے۔
یہاں تک کہ وہ مغربی طاقتیں جنہوں نے اس جنگ کو شروع کیا، اب خود محسوس کر رہی ہیں کہ آبنائے ہرمز پر فوجی تصادم ان کی اپنی معیشتوں کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ جب تک سمندروں میں جنگی جہازوں کے سائرن گونجتے رہیں گے، تجارتی جہازوں کے ہارن خاموش رہیں گے۔
اس معاشی تباہی کے ساتھ ساتھ ایک اور بڑا خطرہ ماحولیات کا بھی ہے۔ اگر کوئی میزائل یا ڈرون کسی بڑے آئل ٹینکر سے ٹکرا جاتا ہے، تو لاکھوں بیرل تیل سمندر میں بہہ جائے گا۔ یہ نہ صرف سمندری حیات کے لیے ایک موت کا پروانہ ہوگا، بلکہ ساحلی علاقوں پر رہنے والے انسانوں کا روزگار بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ اس طرح کا کوئی بھی حادثہ معاشی تباہی کے ساتھ ساتھ صدی کی سب سے بڑی ماحولیاتی آفت ثابت ہو سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس ‘نظریۂ مسماری کا براہِ راست نتیجہ ہے جس نے خطے کے امن کو بھسم کر دیا ہے۔ طاقت کے نشے میں بدمست عالمی کھلاڑیوں کو اب یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ وہ زمین پر شہروں کو تو کھنڈر بنا سکتے ہیں، لیکن سمندر کے ان راستوں کو زبردستی کھلا نہیں رکھ سکتے جن پر ان کی اپنی بقا کا دارومدار ہے۔
اگر اس سمندری شہ رگ کو سفارت کاری، مذاکرات اور فوری جنگ بندی کے ذریعے نہ کھولا گیا، تو دنیا ایک ایسی عالمی کساد بازاری (Global Recession) میں دھنس جائے گی جس سے نکلنے میں نسلیں لگ جائیں گی۔
آج کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہے کہ اس جنگ میں کون جیتے گا، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا جنگ کے اختتام تک دنیا کی معیشت اور عام انسان کی زندگی اس قابل رہے گی کہ وہ اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑی ہو سکے؟ وقت تیزی سے گزر رہا ہے، اور اب بندوقوں سے زیادہ ضرورت مذاکرات کی میز کی ہے۔

Leave a reply