حکومت کا مقامی آٹو صنعت کے تحفظ کے لیے نئی پالیسی لانے کا فیصلہ

0
9

حکومت نے ملک میں مقامی آٹو صنعت کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر نئی آٹو پالیسی میں اینٹی ڈمپنگ اقدامات شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پاکستان سستی درآمدی گاڑیوں کی منڈی نہ بن سکے۔

متعلقہ دستاویزات کے مطابق حکام کا مؤقف ہے کہ کم قیمت درآمدی گاڑیوں کی بڑی تعداد میں آمد سے نہ صرف مقامی گاڑی ساز صنعت متاثر ہو سکتی ہے بلکہ لاکھوں افراد کے روزگار کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں درآمدی گاڑیوں پر ٹیرف میں کمی بتدریج اور محتاط انداز میں کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے بڑے آٹو ساز ممالک، جن میں چین اور امریکا بھی شامل ہیں، اپنی مقامی صنعت کے تحفظ کے لیے درآمدات پر مختلف نوعیت کے حفاظتی محصولات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں بھی مکمل تیار شدہ گاڑیوں پر درآمدی ٹیرف 40 سے 75 فیصد کے درمیان رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔

حکومت نے مقامی پرزہ سازی اور آٹو مینوفیکچرنگ کے فروغ کے لیے خصوصی مراعات دینے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ پالیسی کے تحت صرف وہی کمپنیاں مراعات حاصل کر سکیں گی جو پاکستان میں مقامی سطح پر پیداوار اور لوکلائزیشن کے اہداف حاصل کریں گی، جبکہ مقررہ اہداف پورے نہ کرنے والی کمپنیوں کو رعایتی سہولتیں نہیں دی جائیں گی۔

حکام کے مطابق مجوزہ اقدامات کا مقصد مقامی صنعت کو مضبوط بنانا، روزگار کے مواقع کا تحفظ کرنا اور آٹو سیکٹر میں طویل المدتی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

Leave a reply