
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ایک خط کے ذریعے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی تھی، جبکہ اس حوالے سے وزیراعظم سے ان کی نجی ملاقات میں بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر ضرورت ہو تو وزیراعظم ان ملاقاتوں میں ہونے والی باتوں سے ایوان کو آگاہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض معاملات پر ان سے رابطہ کیا گیا اور ثالثی کی درخواست بھی سامنے آئی۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ نجی ملاقات میں جو گفتگو ہوئی، وہ امانت ہے اور اسے عوامی سطح پر زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی باتوں کو منظرعام پر لانے سے معاملات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں، اس لیے وہ اس گفتگو کی تفصیلات شیئر نہیں کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید بتایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے بھی ان سے رابطہ کیا گیا ہے اور ان کے مطالبات ان کے علم میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ فریقین اپنے مؤقف میں نرمی نہ لائے اور معاملات میں پیش رفت نہ ہوئی تو ان کے لیے مؤثر ثالثی کا کردار ادا کرنا مشکل ہو جائے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات اور لچکدار رویہ اختیار کرنا ناگزیر ہے تاکہ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے ختم کیا جا سکے۔















