
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ماضی کی تلخیوں اور غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے جمہوری استحکام کے لیے ایک نئے اتفاق رائے کی جانب بڑھیں۔
اپوزیشن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر جمہوریت کے فروغ کے لیے چارٹر آف ڈیموکریسی جیسا معاہدہ کرنا چاہیے تاکہ سیاسی نظام کو درپیش چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں مختلف ادوار کے دوران ایسے فیصلے بھی ہوئے جن پر سوالات اٹھائے گئے، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی قیادت ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے ان سے سبق حاصل کرے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے اختلافات کے باوجود میثاقِ جمہوریت کے ذریعے سیاسی مفاہمت کی مثال قائم کی تھی۔ انہوں نے تحریک انصاف کو بھی اپنی سیاسی حکمت عملی اور ماضی کے طرز عمل کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پارلیمانی نظام کی مضبوطی جمہوریت کے استحکام کے لیے ضروری ہے اور تمام سیاسی قوتوں کو اس کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے محمود خان اچکزئی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سیاسی روایات اور نظریاتی پس منظر منفرد ہے، جبکہ موجودہ سیاسی اتحادوں میں بعض اوقات غیر متوقع منظرنامے بھی سامنے آتے ہیں۔ وزیر دفاع نے اس موقع پر سیاسی ماحول میں برداشت، شائستگی اور جمہوری اقدار کے فروغ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔















