شدید گرمی اسمارٹ فون کیلئےبھی خطرہ، ماہرین نے اہم مشورے دیدیے

0
10

گرمی کی شدت جہاں انسانی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے، وہیں اسمارٹ فونز کی کارکردگی بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلند درجہ حرارت موبائل فون کی رفتار، بیٹری اور دیگر اہم حصوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

موجودہ دور میں اسمارٹ فون رابطے، آن لائن بینکنگ، دفتری امور، تفریح اور روزمرہ کے متعدد کاموں کے لیے ناگزیر بن چکا ہے۔ ایسے میں گرمی کے باعث اس کی کارکردگی متاثر ہونا صارفین کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق زیادہ تر اسمارٹ فونز 0 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان بہتر انداز میں کام کرتے ہیں۔ جب درجہ حرارت اس حد سے تجاوز کر جاتا ہے، خصوصاً فون براہِ راست دھوپ میں ہو، تو اس کے گرم ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

فون کا زیادہ گرم ہونا بیٹری کے تیزی سے ختم ہونے، ڈیوائس کی رفتار کم ہونے، اسکرین کے ردعمل میں سستی اور بعض اوقات فون کے خود بخود بند ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ مسلسل زیادہ درجہ حرارت بیٹری کی مجموعی عمر بھی کم کر سکتا ہے اور اندرونی ہارڈویئر کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ موبائل فون کو کبھی بھی بند گاڑی کے اندر نہ چھوڑا جائے کیونکہ وہاں درجہ حرارت بہت جلد خطرناک حد تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح کمزور نیٹ ورک والے علاقوں میں ضرورت نہ ہونے پر ایئرپلین موڈ استعمال کرنا فون کو غیر ضروری طور پر گرم ہونے سے بچا سکتا ہے۔

اگر فون پہلے سے گرم ہو تو اسے فوری طور پر چارج کرنے کے بجائے کچھ دیر ٹھنڈا ہونے دینا چاہیے۔ گرمی کے موسم میں وائرلیس چارجنگ کا استعمال بھی محدود رکھنا بہتر ہے کیونکہ اس عمل سے اضافی حرارت پیدا ہو سکتی ہے۔

گاڑی میں نیویگیشن کے لیے فون استعمال کرتے وقت اسکرین کی روشنی کم رکھنا اور ڈیوائس کو ایئرکنڈیشنر کے قریب رکھنا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بیٹری سیور موڈ فعال کرنے سے بھی فون پر بوجھ کم ہوتا ہے اور درجہ حرارت قابو میں رہتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گھر سے باہر نکلتے وقت غیر ضروری بیک گراؤنڈ ایپس بند کر دینی چاہئیں اور فون کو براہِ راست دھوپ کے بجائے کسی سایہ دار یا نسبتاً ٹھنڈی جگہ پر رکھنا چاہیے۔

ان احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے صارفین نہ صرف اپنے اسمارٹ فون کو گرمی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ اس کی کارکردگی اور عمر میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔

Leave a reply