پیٹرولیم سیکٹر میں اربوں روپے کی کرپشن کا اسکینڈل بے نقاب، ایف آئی اے متحرک

0
7

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بانڈڈ پیٹرولیم مصنوعات کی مبینہ غیر قانونی فروخت اور قومی خزانے کو اربوں روپے نقصان پہنچانے کے الزام میں تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق کسٹمز ڈیوٹی، مختلف ٹیکسز اور پیٹرولیم لیوی کی مبینہ چوری کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد متعلقہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

تحقیقات میں گو پٹرولیم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سمیت متعدد افسران کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کا مؤقف ہے کہ بانڈڈ پیٹرولیم مصنوعات قواعد و ضوابط کے برعکس فروخت کی گئیں۔

ایف آئی آر میں ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل، جعلی دستاویزات کے استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق مقدمہ کسٹمز ایکٹ، تعزیراتِ پاکستان اور انسدادِ بدعنوانی سے متعلق قوانین کے تحت درج کیا گیا ہے، جبکہ ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کیس میں سرکاری اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔ ایف آئی اے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگانے میں مصروف ہے جبکہ اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔

Leave a reply